سہیل آفریدی اور مذاکراتی کمیٹی ایک ہی پیج پر ہیں، سلمان اکرم راجا

Calender Icon پیر 5 اکتوبر 2026

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے واضح کیا ہے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اور حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنے والے اپوزیشن کے وفد کا مؤقف ایک ہی تھا۔

حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے 2 دور بے نتیجہ ثابت ہوئے جس کے بعد وزیر داخلہ محسن نقوی سمیت متعدد حکومتی نمائندوں نے ڈیڈ لاک کی ذمہ داری سہیل آفریدی پر ڈالتے ہوئے کہا کہ انہوں نے سارے عمل کو سبوتاژ کیا اور جب مسودہ فائنل ہو گیا تو اچانک انہوں نے معاہدہ کرنے سے انکار کر دیا۔

بابر اعوان کے ہمراہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران سلمان اکرم راجا نے اس تاثر کی نفی کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات صوبائی حکومت اور مذاکراتی کمیٹی کے درمیان اختلاف کی وجہ سے نہیں بلکہ حکومت کے ساتھ 2 بنیادی نکات پر اختلاف کی وجہ سے ناکام ہوئے۔

حکومت مطالبات ماننے سے انکاری رہی جس پر ڈیڈ لاک پیدا ہوا’
ان نکات کی تفصیل میں جاتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ پہلا نکتہ عمران خان سے قانون کے مطابق ملاقاتوں کا اور دوسرا خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دینا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت دونوں مطالبات ماننے سے انکاری رہی جس پر ڈیڈ لاک پیدا ہوا۔

سلمان اکرم راجا نے کہا کہ طے پایا کہ اگر معاہدہ ہوا تو تمام اسیران کو رہا کر دیا جائے گا، معمر اور خواتین کی رہائی پر بھی بات مثبت انداز میں بڑھ رہی تھی، اسی لیے یہ تاثر سامنے آیا کہ مذاکرات کامیابی کے قریب ہیں تاہم بانی کے معالجین اور خیبر پختونخوا کے معاملے پر مذاکرات کی بات ٹوٹ گئی۔

‘عمران خان کو شامل کئے بغیر کوئی حتمی بات نہیں ہو سکتی’
سلمان اکرم راجا نے کہا کہ ہر مکالمے میں بانی پی ٹی آئی کو شامل کیا جائے، عمران خان کو شامل کئے بغیر کوئی حتمی بات نہیں ہو سکتی۔ عمران خان کیخلاف 300 سے زائد مقدمات ہیں۔ بانی اور بشریٰ بی بی سے ملاقات ضروری ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وکلاء، خاندان کے افراد اور رفقاء سے ملاقاتوں کا معاملہ ہم نے حکومت کے سامنے رکھا، بانی پی ٹی ائی تک ذاتی معالجین تک رسائی کے مطالبے کو بھی نہیں مانا گیا، ذاتی معالجین تک رسائی کا معاملہ کوئی سیاسی مطالبہ نہیں تھا، اگر عمران خان کو ذاتی معالجین تک رسائی نہیں دی جاتی تو بات کرنے کا فائدہ نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا اسمبلی نے صوبے کے تمام شراکت داروں پر مشتمل امن جرگہ منعقد کیا تھا جہاں دہشتگردی کیخلاف کارروائی پر اتفاق کیا گیا۔ ان کے مطابق امن جرگہ کی دستاویزات پر مسلم لیگ (ن) ، اے این پی سمیت دیگر جماعتوں کے دستخط موجود ہیں۔ جس کے بارے میں ہم نے حکومت سے کہا کہ امن و امان سے متعلق آئندہ لائحہ عمل طے کرنے کے لیے خیبر پختونخوا کی تمام سیاسی جماعتوں اور قبائلی عمائدین کو شامل کئے بغیر آگے چلنا ممکن نہیں، اس جرگے کے لوگوں کی بات کو اہمیت دی جائے۔

‘امن وامان کے قیام کے لیے ہمارا موقف بھی شامل کیا جائے’
سلمان راجا نے کہا کہ حکومت نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں کیے جانے والے آپریشن کی حمایت کی جائے، جس پر ہم نے کہا کہ صوبے میں امن وامان کے قیام کے لیے ہمارے موقف کو بھی شامل کیا جائے، ہماری جماعت دہشتگردی کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی رکھتی ہے اور دہشتگردی کے خاتمے کے لیے مکمل پرعزم ہے، ہم معصوم شہریوں کی جانوں کے ضیاع اور مقامی آبادی کی اندرونی نقل مکانی کی صورت میں پیدا ہونے والے نقصانات کے خلاف ہیں، دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں میں شہریوں کے تحفظ کو بنیادی اہمیت دی جانی چاہیے۔

حکومتی رہنماؤں کے بیانات پر پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ یہ پریس کانفرنسوں میں کہتے ہیں کہ ہم مذاکرات کے لیے تیار نہیں، ہمارا موقف ہے کہ کوئی ریاست مذاکرات کا راستہ بند نہیں کر سکتی ، جنگ میں بھی فریقین کے مابین مذاکرات ہوتے ہیں کیا پاکستان اور بھارت کی جنگ میں ہاٹ لائن کھلی نہیں ہوتی؟

‘عزت قانون و آئین اور امن کی خاطر نکلیں گے’
پی ٹی آئی کے جنرل سیکرٹری نے کہا کہ ہم عزت قانون و آئین اور امن کی خاطر نکلیں گے، مذاکرات میں ناکامی کے بعد سہیل افریدی لانگ مارچ کیلئے نکلے، میں نے مذاکرات والے دن کہا تھا کہ میں اور میری بیٹیاں کلاشنکوف نہیں پھول لے کر نکلیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم کوئی مسلح لوگ نہیں، ہم آج بھی کہتے ہیں قربتوں کو دوریوں میں نہ بدلا جائے، ہم اس دن معاملات کے حل کے قریب تھے ایک دم قربت کو دوری میں بدل دیا گیا۔ حکومتی کمیٹی نے کہا کہ ہم نہیں دیتے ذاتی معالجین کو رسائی، ہم نہیں کرتے متفقہ لائحہ عمل پر کام، پھر ہم کیا کریں۔

‘ہمارے لیے عدلیہ اور پارلیمان کے راستے بند کر دئیے گئے’
انہوں نے کہا کہ ہمارے لوگوں کو مقدمات کا سامنا ہے، یاسمین راشد اور دیگر خواتین جیل کاٹ رہی ہیں، اپیل نہیں لگتی، ہمارے لیے عدلیہ اور پارلیمان کے راستے بند کر دئیے گئے تو ہم کیوں سٹرکوں پر نہ نکلیں۔ بانی پی ٹی آئی کی تینوں بہنوں کو گرفتار کرکے کہا گیا کہ بانی پی ٹی آئی کی بہنوں سے خطرہ ہے اس لیے گرفتاری ہوئی، بانی کی ایک بہن ڈاکٹر ہیں اگر ان سے خطرہ ہے تو مجھ سے تو بہت زیادہ خطرہ ہو گا۔

مزید پڑھیں:پاکستان، سری لنکا T20 اور سہ ملکی کرکٹ سیریز،متبادل ٹریفک پلان جاری

سلمان اکرم راجا نے عمران خان کی صحت سے متعلق صحافی کے سوال پر انکشاف کیا کہ مذاکرات والے دن ہمیں بتایا گیا کہ عمران خان کا بلڈ پریشر بہت بڑھ گیا تھا، اور چار پانچ ہفتے ہوگئے لیکن ادویات کے باوجود ان کا بلڈ پریشر ٹھیک نہیں ہورہا تھا، پھر لندن سے ایک اسپیشلسٹ کو خاص طور پر بلایا گیا اور پھر اس نے علاج کیا تو عمران خان کا بلڈ پریشر ٹھیک ہوا۔