طلبہ کے ملک گیر احتجاج نے حکومت کو ہائی اسکول بند کرنے پر مجبور کردیا

Calender Icon بدھ 7 اکتوبر 2026

فرانس(France) میں تعلیمی نظام میں اصلاحات کے مطالبے پر طلبہ کے احتجاج اور پولیس سے جھڑپوں کے بعد وزیراعظم سباستین لیکورنو نے ملک بھر میں ہائی اسکولوں کی کلاسیں ہفتے کے اختتام تک معطل کرنے کا اعلان کردیا۔

الجزیرہ اور رائٹرز کے مطابق منگل کو فرانس کے مختلف شہروں میں لاکھوں طلبہ، اساتذہ، والدین اور دیگر شعبوں سے وابستہ افراد نے مظاہرے کیے۔ حکام کے مطابق مظاہرین کی تعداد تقریباً ڈھائی لاکھ جبکہ منتظمین کے مطابق یہ تعداد 5 لاکھ کے قریب تھی۔ ہائی اسکول طلبہ یونین کے مطابق تقریباً 2 ہزار ہائی اسکول بند یا احتجاج کے باعث رکاوٹ کا شکار رہے۔


مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ غیر حاضر اساتذہ کی جگہ فوری متبادل اساتذہ فراہم کیے جائیں، کھانے کے وقفے کا دورانیہ بڑھایا جائے اور اسکول کے اوقات میں تبدیلی کی جائے۔ طلبہ طویل عرصے سے کلاسوں میں گنجائش سے زیادہ طلبہ، اساتذہ کی کمی اور خستہ حال اسکول عمارتوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔

پیرس، اسٹراسبرگ، لیون اور رین میں بعض مقامات پر احتجاج کے دوران پولیس نے آنسو گیس استعمال کی، جبکہ مظاہرین کی جانب سے سڑکوں پر آگ لگانے اور پولیس پر اشیا پھینکنے کے واقعات بھی پیش آئے۔

مزید پڑھیں:سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل یا غیر مؤثر نہیں کیا جاسکتا، صدر مملکت

فرانسیسی وزارت داخلہ کے مطابق احتجاج شروع ہونے سے اب تک 6 ہزار 100 افراد گرفتار کیے جاچکے ہیں، جن میں اکثریت 18 سال سے کم عمر افراد کی ہے۔ وزارت انصاف کے مطابق ایک ہزار 800 سے زائد افراد کے خلاف مقدمات چلائے جائیں گے۔


وزیراعظم لیکورنو کے مطابق احتجاج کے دوران کم از کم 215 نوجوان اور 715 پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ گزشتہ روز لینس شہر میں ایک 15 سالہ نوجوان کا ہاتھ بھی دھماکے میں ضائع ہوگیا تھا۔

حکومت نے طلبہ کے مطالبات پر اکتوبر کے اختتام تک اقدامات کرنے اور پرانی اسکول عمارتوں کی مرمت کا جائزہ لینے کا اعلان بھی کیا ہے۔