آزاد کشمیر میں 8 اکتوبر 2005 کے ہولناک زلزلے(Earthquake) کو 21 برس بیت گئے، تاہم زلزلہ متاثرہ علاقوں میں 225 ارب روپے کی لاگت سے شروع کیا گیا تعمیر نو اور بحالی کا پروگرام آج تک مکمل نہ ہوسکا۔
ذرائع کے مطابق ادھورے منصوبوں میں محکمہ تعلیم کے 1096، لائیو اسٹاک و زراعت کے 388، آبپاشی کے 81، سرکاری عمارات و گورننس کے 62، جنگلات و ماحولیات کے 44 اور محکمہ صحت عامہ کے 41 منصوبے شامل ہیں۔
مزید پڑھیں:لانگ مارچ کیلئے سرکاری ہیلی کاپٹر کا استعمال، سہیل آفریدی سے جواب طلب
آزاد کشمیر حکومت کو 2021 سے التوا کا شکار 509 منصوبوں کی تکمیل کے ساتھ 501 اسکولوں سمیت مزید 811 منصوبوں پر کام شروع کرنے اور تعمیر نو کا پروگرام مکمل کرنے کے لیے حکومت پاکستان سے 44 ارب روپے درکار ہیں۔
آزاد کشمیر میں 8 اکتوبر 2005 کو آنے والے تباہ کن زلزلے کے بعد متاثرہ علاقوں میں تعمیر نو اور بحالی کے لیے 225 ارب روپے کی لاگت سے مختلف منصوبے شروع کیے گئے تھے، تاہم 21 سال گزرنے کے باوجود یہ پروگرام مکمل نہیں ہوسکا۔













جمعرات 8 اکتوبر 2026 

