پاکستان کاربن مونیٹائزیشن میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے عالمی مثال بن رہا ہے ،شیری رحمان سے یورپی یونین پارلیمانی وفد کی ملاقات

Calender Icon پیر 27 اکتوبر 2025

اسلام آباد: پارلیمنٹ ہاؤس، اسلام آباد میں پاکستان پیپلز پارٹی کی نائب صدر اور سینیٹر شیری رحمان سے یورپی یونین کے پارلیمانی وفد نے اہم ملاقات کی۔ ملاقات میں ماحولیاتی تبدیلی، دوطرفہ تجارت، باہمی ترقیاتی تعاون، اور پارلیمانی ڈپلومیسی کے فروغ پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ یورپی یونین کے وفد نے پاکستان کی ماحولیاتی کوششوں اور عالمی سطح پر مذاکراتی کردار کو سراہتے ہوئے پاک-ای یو تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔

سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ پارلیمنٹ سے پارلیمنٹ تعلقات عالمی چیلنجز کے مشترکہ حل کے لیے ناگزیر ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی جمہوری اقدار، ترقیاتی اہداف، اور ماحولیاتی استحکام کے لیے پارلیمانی ڈپلومیسی پر پختہ یقین رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہری پھیلاؤ کو روکنا اور قدرتی ماحولیاتی نظام کی بحالی ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے لیے یکساں اہم ہے۔

شیری رحمان نے پاکستان کے ماحولیاتی چیلنجز پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ 2022 میں پاکستان کا ایک تہائی حصہ تباہ کن سیلاب کی زد میں آیا، جبکہ رواں سال 65 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی نقصانات کی وجہ سے غربت، بے روزگاری، اور غذائی عدم تحفظ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ پاکستان عالمی کاربن اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ ڈالتا ہے، لیکن ماحولیاتی بحران کی فرنٹ لائن پر کھڑا ہے۔ انہوں نے آبادی میں تیزی سے اضافے اور ماحولیاتی دباؤ کو ایک “ٹک ٹک کرتی ٹائم بم” قرار دیتے ہوئے اسے عالمی برادری کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دیا۔

سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ پاکستان کاربن مونیٹائزیشن میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے عالمی مثال بن رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے محدود وسائل کے باوجود ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھا رہا ہے، جو عالمی سطح پر قابل تحسین ہیں۔

شیری رحمان نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو خواتین کی مالیاتی بااختیاری کی کامیاب ترین مثال قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کی معاشی شمولیت اور سماجی تحفظ حقیقی ترقی کے لیے ناگزیر ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی خواتین کی ترقی اور سماجی بہبود کے لیے اپنی کاوشیں جاری رکھے گی۔

ملاقات میں دوطرفہ تجارت کے موضوع پر بھی بات چیت ہوئی۔ شیری رحمان نے کہا کہ پاکستان اور یورپی یونین کے تجارتی تعلقات 9 ارب ڈالر کی برآمدات اور 12 ارب ڈالر کے مجموعی تجارتی حجم تک پہنچ چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یورپی یونین پاکستان کا دوسرا بڑا تجارتی شراکت دار ہے، جو کل تجارت کا 12.4 فیصد حصہ رکھتا ہے۔ انہوں نے جی ایس پی پلس اسٹیٹس کی توسیع کو پاک-ای یو تعلقات کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔

یورپی یونین کے وفد نے جی ایس پی پلس اسٹیٹس میں توسیع اور ای یو گلوبل گیٹ وے انیشی ایٹو کے تحت مزید تعاون کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا۔ وفد نے پاکستان کی معاشی اور سماجی ترقی کے لیے اپنے تعاون کو جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی۔ دونوں فریقین نے ماحولیاتی تبدیلی، اقتصادی لچک، اور انسانی ترقی کے شعبوں میں مشترکہ حکمت عملی اپنانے پر اتفاق کیا۔

ملاقات کے اختتام پر پاکستان اور یورپی یونین نے پارلیمانی روابط کو مزید مضبوط کرنے اور ترقیاتی شراکت داری کو وسعت دینے پر اتفاق کیا۔ شیری رحمان نے کہا کہ یہ ملاقات دوطرفہ تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ یورپی یونین کے وفد نے پاکستان کی جمہوری اقدار، ماحولیاتی کوششوں، اور معاشی ترقی کے عزم کو سراہتے ہوئے مستقبل میں مزید قریبی تعاون کے عزم کا اظہار کیا۔

یہ ملاقات پاک-ای یو تعلقات کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت ہے اور دونوں فریقین کے درمیان تعاون کے نئے امکانات کو روشن کرتی ہے۔