پاکستان توانائی سیکیورٹی کے لیے مقامی پیداوار اور اسٹریٹجک ذخائر میں اضافہ کر رہا ہے،علی پرویز ملک

Calender Icon پیر 12 اکتوبر 2026

وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں بین الاقوامی توانائی فورم کے وزارتی اجلاس سے خطاب اور عالمی رہنماؤں سے ملاقاتوں کے دوران واضح کیا ہے کہ پاکستان اپنے قومی توانائی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مقامی پیداوار، اسٹریٹجک ذخائر اور توانائی کے متبادل ذرائع بڑھانے پر فوری توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے.

تفصیلات کے مطابق ریاض میں منعقدہ عالمی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر پیٹرولیم نے سعودی عرب میں حوثی اکثریتی تنظیم انصار اللہ کے حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان آزمائش کی اس گھڑی میں اپنے برادر ملک سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کے ساتھ کھڑا ہے۔ انہوں نے تاکید کی کہ عالمی سطح پر توانائی کا تحفظ، مناسب قیمتیں اور پائیدار فراہمی قائم رکھنے کے لیے اس شعبے میں عالمی سرمایہ کاری کو بڑھانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

اجلاس کے سائیڈ لائنز پر وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے لیبیا، قطر اور ترکیہ کے ہم منصبوں سے الگ الگ اور تفصیلی ملاقاتیں بھی کیں۔ لیبیا کے وزیر برائے تیل و گیس سے گفتگو کے دوران انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے اپنی مقامی ریفائنریز کو لیبیا سے خام تیل کی باقاعدہ درآمد کی ترغیب دی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان آبنائے ہرمز اور آبنائے باب المندب جیسے انتہائی حساس اور اہم بحری راستوں میں کسی بھی ممکنہ رکاوٹ یا کشیدگی کی صورت میں متبادل ذرائع برقرار رکھنے کے لیے خام تیل کی حاصلات کو مختلف خطوں تک پھیلانا چاہتا ہے۔

قطر کے وزیر توانائی سے ملاقات میں پاکستان اور قطر کے درمیان مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی فراہمی اور اس شعبے میں تعاون کے نئے امکانات کا گہرائی سے جائزہ لیا گیا۔ دوسری جانب ترکیہ کے وزیر توانائی نے بھی وفاقی وزیر پیٹرولیم سے خصوصی ملاقات کی اور یہ خوشخبری سنائی کہ سمندر میں تیل و گیس کی تلاش کے لیے جدید صلاحیتوں کا حامل ترکش ڈرلنگ جہاز اگلے ماہ پاکستان کی سمندری حدود میں پہنچ جائے گا، جس سے ملکی سطح پر ہائیڈرو کاربنز کی تلاش کو نیا موڑ ملے گا۔