امریکا کا ایران کی ایٹمی تنصیبات پر ’مدر آف آل بمز‘ گرانے کا منصوبہ

Calender Icon جمعرات 15 اکتوبر 2026

امریکی فوج نے ایران پر حملوں کے نئے اور انتہائی جارحانہ منصوبے تیار کیے ہیں، جن میں ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے اپنے سب سے بڑے غیر جوہری بم ’مدر آف آل بمز‘ (MOAB) کا ممکنہ استعمال شامل ہے۔

بین الاقوامی ذرائع ابلاغ اور امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی خصوصی رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون کے اعلیٰ عسکری حکام کے درمیان ایران کے خلاف ممکنہ کارروائیوں کے لیے کئی اہم اور اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوئے ہیں۔ ان اجلاسوں میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے احکامات پر امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کو یہ ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایرانی اہداف کے خلاف اضافی اور زیادہ شدید اسٹرائیک پیکجز تیار رکھیں۔ امریکی حکام کی جانب سے تیار کیے گئے ان منصوبوں کا بنیادی مقصد ایران کے خلاف ایک ایسا کاری ضرب لگانا ہے جس کے بعد امریکی انتظامیہ خطے میں باقاعدہ فتح کا اعلان کر سکے اور بعد ازاں مشرقِ وسطیٰ میں تعینات تمام امریکی افواج کا باوقار اور محفوظ انخلا ممکن بنایا جا سکے- عسکری منصوبہ بندی میں اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ ایران کے توانائی کے اہم انفراسٹرکچر اور جوہری پروگرام کے مراکز کو مفلوج کر کے تہران کو حتمی پیش رفت پر مجبور کیا جائے۔

امریکی اسلحہ خانے میں شامل ’جی بی یو-43/بی میسیو آرڈیننس ائیر بلاسٹ‘ (GBU-43/B MOAB) کو دنیا کا سب سے زیادہ تباہ کن اور طاقتور غیر جوہری بم تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس بم کا کل وزن تقریباً 21 ہزار 600 پاؤنڈز (تقریباً 9.8 ٹن) ہے اور اسے جی پی ایس گائیڈنس سسٹم کے ذریعے اپنے ہدف پر انتہائی درستگی کے ساتھ گرایا جاتا ہے۔ یہ غیر معمولی بم زمین پر گرنے کے بجائے فضا میں ہی دھماکے سے پھٹتا ہے، جس سے پیدا ہونے والی شدید ترین فضائی لہریں (Air Blast) تقریباً نو رہائشی بلاکس کے برابر وسیع علاقے کو پل بھر میں تباہ و برباد کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پینٹاگون کے منصوبے میں ایران کی انتہائی حساس جوہری تنصیب پک ایکس ماؤنٹین (Kuh-e Kolang) کو اس بم کا مرکزی ہدف بنانے تجاویز شامل ہیں، جہاں امریکا اور اس کے اتحادیوں کے مطابق ایران نے اپنے جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے اہم اور حساس اجزا چھپا رکھے ہیں۔

اگرچہ ’مدر آف آل بمز‘ انتہائی ہولناک تباہی پھیلا سکتا ہے، لیکن عسکری ماہرین اور امریکی دفاعی تجزیہ کاروں نے ایران کی زیرِ زمین ایٹمی تنصیبات کے خلاف اس کی عملی افادیت پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ’ایم او اے بی‘ بنیادی طور پر سطحِ زمین پر موجود اہداف، فوجی اجتماعات، دفاعی تنصیبات یا غاروں کے دہانوں کو تباہ کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ چونکہ یہ بم زمین کی گہرائی میں اتر کر دھماکہ کرنے والےبنکر بسٹر بموں کی طرح ڈیزائن نہیں ہوا، اس لیے پک ایکس جیسے مراکز، جو گرینائٹ کی سینکڑوں فٹ موٹی اور مضبوط پہاڑی تہوں کے نیچے قائم ہیں، کو اس سے کلی طور پر تباہ کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ اس کے باوجود امریکی انتظامیہ اور ملٹری پلانرز کا ماننا ہے کہ اس ہولناک بم کا استعمال ایرانی قیادت پر شدیدنفسیاتی دباؤ (Psychological Impact) ڈالنے کا سبب بنے گا اور اس سے تہران کو اپنے جوہری موقف سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔

تاریخی لحاظ سے ’مدر آف آل بمز‘ کو پہلی بار 2003ء میں عراق جنگ کے دوران دشمن کے اندر خوف و ہراس پیدا کرنے کے لیے ایک ‘نفسیاتی ہتھیار کے طور پر پیش کیا گیا تھا، تاہم جنگی میدان میں اس کا پہلا باضابطہ استعمال ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت کے دوران اپریل 2017ء میں افغانستان کے صوبے ننگرہار میں داعش کے سرنگوں والے کمپلیکس پر کیا گیا تھا، جہاں اس کے نتیجے میں درجنوں جنگجو ہلاک اور ان کا مواصلاتی نظام تباہ ہو گیا تھا۔ سیاسی منظرنامے کے مطابق اگرچہ صدر ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں عوام کے سامنے یہ اشارہ دیا تھا کہ وہ وسط مدتی انتخابات سے قبل کوئی نیا بڑا ملٹری ایڈونچر نہیں کریں گے، لیکن نجی سطح پر وائٹ ہاؤس کے مشیروں کا کہنا ہے کہ صدر کا یہ بیان کسی وقت بھی تبدیل ہو سکتا ہے۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ ایران کو کسی بھی قیمت پر ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اور اگر تہران نے اپنی پیش رفت جاری رکھی تو ‘مدر آف آل بمز جیسے انتہائی اقدامات کا استعمال بھی خارج از امکان نہیں رہے گا۔ دوسری جانب ایرانی حکام اور فوجی کمانڈروں نے کسی بھی ممکنہ امریکی ایڈونچر کا بھرپور، دندان شکن اور حتمی جواب دینے کا اعلان کر رکھا ہے۔