کسانوں کے خون میں نہایا بھارت، مودی کے ‘شائننگ انڈیا’ کا اصل چہرہ بے نقاب

Calender Icon منگل 28 اکتوبر 2025

اسلام آباد (طارق محمود سمیر) مودی حکومت کے دور میں بھارت کا نام نہاد “شائننگ انڈیا” کا چہرہ ایک بار پھر خون سے رنگ گیا ہے۔ مدھیہ پردیش میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنما کی جانب سے ایک کسان کو جیپ تلے کچل کر قتل کرنے کا لرزہ خیز واقعہ سامنے آیا ہے، جس نے پورے ملک میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔

بھارتی جریدے کی رپورٹ کے مطابق گنیش پورہ گاؤں میں بی جے پی لیڈر مہندرا نگر نے زمین بیچنے سے انکار کرنے والے کسان رام سواروپ پر اپنی جیپ چڑھا دی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ مہندرا نگر نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ کسان کو ڈنڈوں سے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا، گاؤں کی خواتین پر بھی تشدد کیا گیا اور فائرنگ کی گئی۔ زخمی کسان کو ہسپتال لے جانے کی اجازت تک نہیں دی گئی۔

مقامی افراد نے بتایا کہ بی جے پی کے بااثر رہنما گزشتہ کئی ماہ سے کسانوں پر دباؤ ڈال رہے تھے کہ وہ اپنی زمینیں سستے داموں فروخت کر کے گاؤں چھوڑ دیں۔ اب تک 25 سے زائد کسان دھمکیوں کے باعث نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔

کانگریس کے ایم ایل اے رشی اگروال نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی حکومت کے زیرِ سایہ مدھیہ پردیش میں تشدد، لوٹ مار اور خواتین سے زیادتی کے واقعات خطرناک حد تک بڑھ چکے ہیں۔ ان کے مطابق مودی سرکار کی ظالمانہ پالیسیوں نے کسانوں کو معاشی بدحالی، قرضوں اور خودکشیوں کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔

بھارت میں کسان برادری پہلے ہی مودی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کر رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومتی سرپرستی میں طاقتور طبقے کے ہاتھوں کسانوں پر بڑھتے مظالم “شائننگ انڈیا” کے اس جھوٹے بیانیے کو عیاں کر رہے ہیں جس کے نیچے غربت، ناانصافی اور جبر کی سچائی چھپی ہے۔