لاہور ہائی کورٹ نے دستخطوں اور انگوٹھوں کے نشانات کی تصدیق سے متعلق مقدمے میں اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے ماتحت عدالتوں کے فیصلے کالعدم قرار دے دیے۔ عدالت نے حکم دیا کہ متنازعہ دستاویزات پر مرحوم کے دستخطوں اور انگوٹھوں کے نشانات کا موازنہ فرانزک سائنس لیبارٹری سے کرایا جائے۔یہ فیصلہ جسٹس احمد ندیم ارشد نے محمد سلیمان سمیت دیگر درخواست گزاروں کی درخواستوں پر تفصیلی طور پر تحریر کیا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ عدالتوں کو جدید سائنسی اور فرانزک طریقے اپنانے چاہییں تاکہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔ فیصلے میں کہا گیا کہ کسی بھی دستاویز کی اصلیت جانچنے کے لیے فرانزک شواہد انتہائی اہمیت رکھتے ہیں اور انگوٹھوں کے نشانات کا موازنہ ایک قابلِ اعتماد ثبوت تصور کیا جاتا ہے۔ عدالت نے مزید مشاہدہ کیا کہ دنیا میں کسی دو افراد کے انگوٹھوں کے نشانات ایک جیسے نہیں ہو سکتے، اس لیے جدید فرانزک ٹیکنالوجی انصاف کے تقاضے پورے کرنے میں مددگار ہے۔فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ عدالتوں کو فرانزک ماہرین کی رائے حاصل کرنے میں ہچکچاہٹ نہیں کرنی چاہیے کیونکہ دستخطوں، لکھائی اور انگوٹھوں کے نشانات کے موازنے کے لیے ماہرین کی مدد ناگزیر ہے۔ عدالت اگرچہ ماہر کی رائے کی پابند نہیں، تاہم ایسی رائے انصاف کرنے میں سہولت پیدا کرتی ہے۔ سائنسی شواہد کو نظر انداز کرنا انصاف کے اصولوں کے منافی قرار دیا گیا۔
لاہور ہائیکورٹ نے دستخطوں کی تصدیق سے متعلق کیس میں اہم فیصلہ جاری کردیا
منگل 28 اکتوبر 2025












