لندن، نواز شریف کی گاڑیوں پر حملہ، فوٹیج سامنے آگئی، تحقیقات جاری

Calender Icon پیر 19 اکتوبر 2026

سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کی 2 گاڑیوں کو وسطی لندن میں ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کے باہر مبینہ طور پر نشانہ بنایا گیا ہے۔

نوازشریف ان دنوں طبی معائنے کے لیے ایک ہفتے کے دورے پر لندن میں موجود ہیں جہاں ان کے صاحبزادے حسن اور حسین نواز بھی ان کے ساتھ ہیں۔

مسلم لیگ (ن) یوتھ ونگ کے رہنما خرم بٹ کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کی گئی سی سی ٹی وی فوٹیج میں 2افراد کو رات تقریباً 12 بجے موٹر سائیکلوں پر آتے دیکھا جاسکتا ہے۔ دونوں نے اپنی شناخت چھپانے کے لیے ماسک اور دستانے پہن رکھے تھے۔

فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ دونوں افراد ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کے باہر کھڑی گاڑیوں کے قریب گئے۔ خرم بٹ کے مطابق ملزمان گاڑیوں سے 4 اشیا نکال کر لے گئے اور کم از کم ایک گاڑی کے سائیڈ مرر کو بھی نقصان پہنچایا۔

بی ایم ڈبلیو اور مرسڈیز بینز کی مجموعی مالیت تقریباً 2 لاکھ پاؤنڈ بتائی گئی ہے تاہم مالی نقصان کی حتمی مالیت کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی۔

جاری کردہ فوٹیج میں اسی سڑک پر تقریباً 7 سے 10 دیگر گاڑیاں بھی کھڑی دکھائی دیتی ہیں تاہم ویڈیو میں نواز شریف کی دونوں گاڑیوں کو ہی نشانہ بنتے دیکھا گیا۔

خرم بٹ کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیج میٹروپولیٹن پولیس کے حوالے کردی گئی ہے اور پولیس واقعے کی تحقیقات کررہی ہے۔

مسلم لیگ (ن) برطانیہ کے صدر احسن ڈار نے الزام عائد کیا کہ دیگر گاڑیاں موجود ہونے کے باوجود نواز شریف کی گاڑیوں کو نشانہ بنانا اس واقعے کے سیاسی محرکات سے متعلق سوالات پیدا کرتا ہے تاہم ملزمان کی شناخت اور واقعے کے اصل محرکات تاحال معلوم نہیں ہوسکے۔

’نواز شریف کی گاڑیوں کو نشانہ بنانے کا پہلا واقعہ نہیں‘
نواز شریف کی گاڑیاں عموماً ایون فیلڈ پراپرٹی کے اندر پارک کی جاتی ہیں تاہم جاری تزئین و آرائش کے کام کے باعث گاڑیاں سڑک کنارے کھڑی کی گئی تھیں۔

خرم بٹ کے مطابق لندن میں نواز شریف کی گاڑیوں کو نشانہ بنانے کا یہ پہلا واقعہ نہیں۔ مئی 2023 میں وسطی لندن میں بلیک لائیوز میٹر مظاہرین اور پولیس کے درمیان تصادم کے دوران نواز شریف کی ایک گاڑی کو بھی نقصان پہنچایا گیا تھا۔ اس وقت ایک مظاہرین نے گاڑی پر کافی پھینکی اور اسے لات ماری تھی۔

’ایون فیلڈ رہائش گاہ پر ماضی کے واقعات‘
جولائی 2018 میں مظاہرین نے نواز شریف فیملی کی ایون فیلڈ رہائش گاہ میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی۔ پولیس کو اس وقت طلب کیا گیا جب مظاہرین نے عمارت کے داخلی راستے میں داخل ہونے کی کوشش کی جبکہ مخالف سیاسی حامیوں کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں گرفتاریاں بھی ہوئیں۔

مئی 2021 میں چار نامعلوم افراد، جن میں سے تین نے ماسک پہن رکھے تھے، مبینہ طور پر لندن میں نواز شریف کے صاحبزادے حسن نواز کے دفتر میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ اس وقت نواز شریف بھی دفتر میں موجود تھے۔ واقعے کی اطلاع پولیس کو دی گئی اور مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے الزام لگایا کہ ان افراد کا مقصد نواز شریف پر حملہ کرنا تھا۔

اپریل 2022 میں نواز شریف کے لندن دفتر کے باہر ایک اور جھڑپ ہوئی، جس میں ایک سکیورٹی گارڈ زخمی ہوگیا۔ پولیس نے حملے سے متعلق شکایت موصول ہونے کی تصدیق کی تھی۔

’گاڑیوں کی رجسٹریشن میں مبینہ فراڈ‘
مارچ اور اپریل 2023 میں نواز شریف کے نام پر لندن میں تین گاڑیوں کی رجسٹریشن کا معاملہ بھی سامنے آیا تھا۔ یہ گاڑیاں ان کی لاعلمی اور رضامندی کے بغیر ان کے نام اور ایون فیلڈ کے پتے پر رجسٹرڈ کی گئی تھیں۔

معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ڈرائیور اینڈ وہیکل لائسنسنگ ایجنسی (ڈی وی ایل اے) نے رجسٹریشن دستاویزات نواز شریف کے لندن پتے پر ارسال کیں۔ 11 اپریل 2023 کو ٹرانسپورٹ فار لندن (ٹی ایف ایل) نے بھی بکنگھم پیلس کے قریب ٹریفک خلاف ورزی پر ان کے نام جرمانے کا نوٹس جاری کیا جس کا تعلق مبینہ طور پر دھوکا دہی سے رجسٹرڈ گاڑیوں میں سے ایک سے تھا۔

نواز شریف کے دفتر نے پولیس اور ڈی وی ایل اے کو شکایات ارسال کیں جس کے بعد فراڈ کی تحقیقات شروع ہوئیں۔ ڈی وی ایل اے نے بعدازاں تصدیق کی کہ گاڑیوں کے ریکارڈ سے نواز شریف کی تفصیلات ہٹا دی گئی ہیں۔

مزید پڑھیں:حرمین کا تحفظ اولین ترجیح؛ جارحیت پر مکہ الائنس کا اجتماعی ڈیٹرنس حرکت میں آئیگا، ترجمان پاک فوج

موجودہ واقعے میں بھی پولیس تحقیقات جاری ہیں تاہم ملزمان کی شناخت، ان کے مقاصد اور سیاسی محرکات کے حوالے سے تاحال کوئی حتمی تصدیق سامنے نہیں آئی۔