بیجنگ/واشنگٹن: معروف بین الاقوامی اخبارساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ (SCMP) کی سرکردہ اور ٹاپ اسٹوری کے مطابق، رواں سال نومبر میں جنوبی چین کے شہرشینزین میں منعقد ہونے والی متوقع اےپیک (Apec) سمٹ کے دوران عالمی رہنماؤں کی ممکنہ ملاقاتوں کے حوالے سے سفارتی سطح پر سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ خبر میں بتایا گیا ہے کہ اگرچہ روس کے تنہائی کے خاتمے اور عالمی تنازعات کے تناظر میں یہ سہ جانبہ بات چیت ایک بڑا سفارتی موڑ ثابت ہو سکتی ہے، تاہم اس سے پہلے تمام عالمی طاقتوں کو ایک مشترکہ ایجنڈے پر اتفاق کرنا ہوگا۔
عالمی سفارت کاری اور اےپیک (APEC) سمٹ کے اہم امور
رپورٹ کے مطابق، نومبر میں ہونے والی اس اہم سربراہی کانفرنس سے قبل امریکہ، چین اور روس کے درمیان باہمی تعلقات اور علاقائی سیکیورٹی کے امور پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے اعلیٰ سطحی مذاکرات جہاں عالمی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کریں گے، وہیں اس سے امریکی اتحادیوں کی حکمت عملی میں بھی توازن پیدا کرنے یا اسے ایک نئی سمت دینے میں مدد ملے گی۔
امریکی اتحادیوں کی حکمت عملی اور اسٹریٹجک لیمبو
اخبار کے تجزیے میں اس بات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے کہ اگر شی جن پنگ، ڈونلڈ ٹرمپ اور ولادیمیر پیوٹن کے درمیان اس نوعیت کی کوئی سہ جانبہ (Trilateral) ملاقات طے پاتی ہے، تو یہ ماسکو پر سے بین الاقوامی دباؤ اور اس کی سفارتی تنہائی کے خاتمے کا ایک انتہائی طاقتور اشارہ ہوگی۔ تاہم، اس پیش رفت کے نتیجے میں واشنگٹن کے روایتی اتحادی ایک عجیب اور غیر یقینی اسٹریٹجک صورتحال (Strategic Limbo) کا شکار ہو سکتے ہیں، جہاں انہیں اپنی پالیسیوں کو از سر نو ترتیب دینا پڑے گا۔
تکنیکی ترقی، مصنوعی ذہانت اور معاشی ایجنڈا
اس کے علاوہ، چین کی جانب سے اس سمٹ میں عالمی معیشت، سپلائی چین کی بحالی، ٹیکنالوجی کے فروغ، اور خصوصاً مصنوعی ذہانت (AI) سے جڑے امور کو مرکزی حیثیت دی جا رہی ہے۔ چین اور دیگر ممالک کے مالیاتی وزراء اور رہنما اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ بدلتے ہوئے عالمی حالات میں تکنیکی ترقی اور معاشی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل ناگزیر ہے۔
شینزینمیں ہونے والی یہ اےپیک سمٹ آنے والے دنوں میں عالمی سیاست، معیشت اور طاقت کے توازن کا قبلہ طے کرنے میں انتہائی فیصلہ کن کردار ادا کرے گی۔













بدھ 21 اکتوبر 2026 

