سعودی عرب (Saudi Arabia)کے دارالحکومت ریاض کو نشانہ بنانے والے بیلسٹک میزائل کو فضا میں ہی تباہ کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
یمن کی حکومت کی حمایت کرنے والے سعودی قیادت کے اتحاد کے ترجمان کے مطابق میزائل حوثی باغیوں نے داغا تھا جسے سعودی فورسز نے روک کر تباہ کر دیا۔
اتحاد کے ترجمان نے بیان میں حوثی ملیشیا کو ’’دہشت گرد‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریاض کی جانب آنے والے بیلسٹک میزائل کو کامیابی سے تباہ کر دیا گیا۔ تاہم، فراہم کردہ رپورٹ میں میزائل کے ہدف یا حملے سے ہونے والے ممکنہ نقصان کی مزید تفصیلات نہیں دی گئیں۔
اس واقعے سے قبل سعودی حکام نے ریاض میں ممکنہ خطرے کے پیش نظر شہریوں کو خبردار کرنے کے لیے الرٹ جاری کیا تھا۔
سعودی سول ڈیفنس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان میں بتایا کہ نیشنل ارلی وارننگ پلیٹ فارم کے ذریعے دارالحکومت میں ممکنہ خطرے سے متعلق انتباہ جاری کیا گیا۔
مزیدپڑھیں:’پیرس بہت جلد مسلم شہر بن جائے گا‘، فرانس میں بدامنی پر ٹرمپ کا متنازع بیان سامنے آگیا
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے صحافیوں کے مطابق ریاض میں دو دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئیں۔ یہ واضح نہیں کہ دھماکوں کی آوازیں میزائل کو فضا میں تباہ کیے جانے کے نتیجے میں آئیں یا ان کا تعلق کسی اور واقعے سے تھا۔
تم إطلاق إنذار من المنصة الوطنية للإنذار المبكر في حالات الطوارئ في مدينة الرياض للتحذير من خطر، اتبع الآتي:
A warning has been issued by the National Early Warning Platform in Riyadh City to alert of a potential danger. Please follow the instructions below: pic.twitter.com/pWe0eNbXwF
— الدفاع المدني السعودي (@SaudiDCD) October 20, 2026
ریاض کی جانب میزائل داغے جانے کا یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب خطے میں سکیورٹی کشیدگی برقرار ہے۔ سعودی اتحاد نے حملے کا الزام حوثیوں پر عائد کیا ہے، تاہم فراہم کردہ رپورٹ میں حوثی حکام کا مؤقف شامل نہیں ہے۔













منگل 20 اکتوبر 2026 

