الیکشن کمیشن نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2015 کے تحت بلدیاتی انتخابات کرانے کا حکم دیتے ہوئے الیکشن شیڈول بھی جاری کر دیا ہے۔
چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا نے وفاقی دارالحکومت میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں تاخیر سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ ایسا لگتا ہے کہ ’حکومت اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات نہیں کرانا چاہتی‘ جبکہ آئین میں واضح ہے کہ بلدیاتی انتخابات متعلقہ قانون کے مطابق ہونے چاہئیں۔
وفاقی دارالحکومت میں آخری بلدیاتی انتخابات 2015 میں ہوئے تھے جن کے نتیجے میں تشکیل پانے والی منتخب بلدیاتی حکومت کی مدت 14 فروری 2021 کو ختم ہو گئی تھی۔ قانون کے تحت حکومت کی مدت ختم ہونے کے بعد 120 دن کے اندر نئے انتخابات کرائے جانے تھے لیکن قانون میں بار بار تبدیلیوں اور انتظامی مسائل کے باعث انتخابی عمل 5 سال سے تعطل کا شکار ہے۔
امیدوار کاغذات پر اعتراض کیخلاف اپیلیں 14 سے 18 نومبر تک دائر کر سکیں گے اور 25 نومبر تک کاغذات واپس لے سکیں گے۔ اس کے بعد الیکشن کمیشن امیدواروں کی حتمی فہرست جاری کرے گا اور 26 نومبر کو امیدواروں کو انتخابی نشانات جاری کئے جائیں گے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق صدر، وزیراعظم ،وزراء اورارکان اسمبلی بلدیاتی الیکشن مہم میں حصہ نہیں لے سکیں گے، بلدیاتی انتخابات کا شیڈول جاری ہونے کے بعد اسلام آباد میں تقرریوں اور تبادلوں پر بھی پابندی عائد کر دی گئی۔
قبل ازیں اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں تاخیر سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا نے مختصر حکمنامہ پڑھ کر سنایا۔ سماعت کے دوران سیکرٹری داخلہ اور الیکشن کمیشن کے حکام پیش ہوئے۔
سماعت کے دوران الیکشن کمیشن کے اسپیشل سیکرٹری ظفر اقبال ملک نے بریف کیا کہ وفاقی حکومت نے بلدیاتی انتخابات سے متعلق آرڈیننس جاری کیا تھا اور اس سلسلے میں ڈیٹا اور نقشے بھی حاصل کر لیے گئے تھے، تاہم حلقہ بندیوں کا عمل جاری تھا کہ 6 ستمبر کو آرڈیننس کی مدت ختم ہو گئی۔
انہوں نے کمیشن کو بتایا کہ اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کے لیے حتمی حلقہ بندیوں کی فہرست 14 اکتوبر کو شائع ہو چکی ہے۔وزارت داخلہ کو دو مرتبہ یاد دہانی کے مراسلے بھی بھجوائے گئے اور آرڈیننس کی مدت ختم ہونے سے متعلق بھی آگاہ کیا گیا لیکن اسلام آباد لوکل گورنمنٹ کے قواعد تاحال فراہم نہیں کیے گئے۔
اسپیشل سیکرٹری کے مطابق وزارت قانون نے قواعد کی توثیق کرنے سے انکار کر دیا جبکہ وفاقی حکومت نے ابھی تک نیا بلدیاتی قانون بھی نہیں بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کے پاس اسلام آباد لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2015 موجود ہے، اس لیے اسی قانون کے تحت انتخابات کرائے جائیں۔
اس موقع پر چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ اگر 2015 کے بلدیاتی قانون کے تحت انتخابات کرائے جائیں تو حلقہ بندیوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ، سیکرٹری داخلہ، چیف کمشنر اور وزراء کی کمیٹی کی جانب سے بھی یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں، تاہم انتخابی عمل میں تاخیر برقرار ہے۔
مزید پڑھیں:راولپنڈی کے 80 کلبوں میں مقابلہ، ملک جمخانہ نے ٹی 20 ٹرافی جیت لی
چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیے کہ ایسا لگتا ہے کہ حکومت اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات نہیں کرانا چاہتی۔ الیکشن کمیشن مجبور ہو کر اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے حکم جاری کر رہا ہے۔













بدھ 21 اکتوبر 2026 

