سرکاری خبر رساں ادارے ریڈیو پاکستان نے رپورٹ کیا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے ضلع قلعہ سیف اللہ میں خفیہ اطلاعات پر آپریشن کرکے فتنہ الخوارج کا دہشتگرد کمانڈر عادل شاہ عرف درویش ہلاک کر دیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہلاک دہشتگرد کمانڈر دسمبر 2020 سے فتنہ الخوارج سے وابستہ تھا اور 2024 سے گروہ کے مالی معاملات کی نگرانی کر رہا تھا۔
رپورٹ میں ذرائع سے مزید کہا گیا ہے کہ بلوچستان میں دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں بھرپور طریقے سے جاری ہیں۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ(آئی ایس پی آر) کے مطابق 2 روز قبل بھی بلوچستان کے ضلع گوادر میں خاتون سمیت 10 دہشت گرد ہلاک کیے گئے۔
اسی طرح اکتوبر 18 کو آئی ایس پی آر کے مطابق بلوچستان کے اضلاع کوئٹہ، نوشکی اور خضدار میں 3 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں 8 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔
ریڈیو پاکستان نے مزید رپورٹ کیا ہے کہ دہشتگرد کمانڈر غیر مقامی دہشتگردوں کو ژوب، شیرانی اور شعبان میں رہائش فراہم کرتا تھا، کمانڈرسکیورٹی فورسز پر حملوں اور اغوا برائے تاوان کیلئے بھتہ خوری میں ملوث رہا۔
رپورٹ کے مطابق خارجی کمانڈر کے خلاف 19 ایف آئی آرز درج تھیں، اس کے سر کی قیمت 25 لاکھ روپے مقرر تھی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز بلوچستان میں دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں آخری دہشتگرد کے خاتمے تک جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔
دریں اثنا وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ قلعہ سیف اللہ میں دہشتگرد کمانڈر کی ہلاکت سکیورٹی فورسزکی مہارت کا مظہر ہے، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سکیورٹی فورسز کی قربانیاں قابل تحسین ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پوری قوم دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑی ہے، دہشتگردی کے خاتمے اور عوام کے تحفظ تک جدوجہد جاری رہے گی۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان کے معاون برائے اطلاعات و سیاسی امور شاہد رند نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ مہارت اور بروقت کارروائیاں قابلِ ستائش ہیں، فتنہ الخوارج کے دہشتگرد کمانڈر کے خلاف کامیاب کارروائی امن دشمن عناصر کے خلاف مؤثر حکمت عملی کی عکاس ہے۔
مزید پڑھیں: شاہین شاہ آفریدی نے ون ڈے میں بڑا اعزاز اپنے نام کر لیا
ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔













اتوار 25 اکتوبر 2026 

