اردن کے جنوبی علاقے میں ایک چرچ میں جنازے کے دوران مسلح افراد کی فائرنگ سے کم از کم 7 افراد ہلاک اور 10 زخمی ہوگئے، جن میں بعض کی حالت تشویش ناک بتائی گئی ہے۔
واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے چرچ کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی جبکہ حکام کی جانب سے واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق فائرنگ کا واقعہ جمعے کے روز اردن کے صوبے کرک میں واقع حمود چرچ میں پیش آیا، جہاں جنازے میں شرکت کے لیے بڑی تعداد میں افراد موجود تھے۔
ایک سیکیورٹی ذریعے نے سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ مسلح افراد نے چرچ میں فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔
اردن کے نشریاتی ادارے المملکہ کے مطابق واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز چرچ کے اطراف تعینات کردی گئیں اور مشتبہ حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی گئی، حکام زخمیوں کی صورت حال پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں، جبکہ بعض زخمیوں کی حالت تشویش ناک بتائی گئی ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں مسلح افراد کو چرچ کے مرکزی دروازے پر یکے بعد دیگرے اندھا دھند فائرنگ کرتے دیکھا جا سکتا ہے، بعدازاں حملہ آور اکٹھے ہوکر فائرنگ کرتے ہوئے چرچ کے اندر داخل ہوتے ہیں، جس سے وہاں موجود افراد میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
واقعے کے ایک عینی شاہد نے المملکہ کو بتایا کہ مسلح افراد ایک گاڑی میں سوار ہوکر وہاں پہنچے اور چرچ میں موجود افراد پر مسلسل فائرنگ شروع کردی، عینی شاہد کے مطابق حملہ آور تقریباً پانچ منٹ تک گولیاں برساتے رہے، جس کے بعد وہ موقع سے فرار ہوگئے۔
عینی شاہد نے بتایا کہ فائرنگ کے وقت چرچ کے اندر اور باہر تقریباً 150 سے 200 افراد موجود تھے، ان کے مطابق واقعے میں متاثر ہونے والے زیادہ تر افراد کی عمریں 50 سے 70 سال کے درمیان تھیں، فائرنگ کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ زخمیوں کو طبی امداد کے لیے منتقل کیا گیا۔
اردن کے وزیر مملکت برائے حکومتی ابلاغ محمد المومنی نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز واقعے کی تحقیقات کررہی ہیں، حکام کی جانب سے حملے کے محرکات اور ملزمان کی شناخت کے حوالے سے مزید تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔
واضح رہے کہ کرک اردن کا ایک اہم علاقہ ہے جہاں مسیحی برادری کی بھی نمایاں آبادی موجود ہے، اردن مسلم اکثریتی ملک ہے تاہم وہاں مسیحی برادری بھی آباد ہے۔
چرچ میں جنازے کے دوران فائرنگ کے اس واقعے کے بعد سیکیورٹی اداروں نے حملہ آوروں کی تلاش اور واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے کارروائیاں شروع کردی ہیں۔
مزید پڑھیں:ایل پی جی کے 2 جہاز پاکستان پہنچ گئے، قیمتوں میں کمی کا امکان
حکام کی جانب سے تاحال حملے کے مقصد یا کسی تنظیم کے ملوث ہونے کے بارے میں کوئی حتمی بیان سامنے نہیں آیا، واقعے سے متعلق مزید معلومات تحقیقات مکمل ہونے کے بعد سامنے آنے کی توقع ہے۔













جمعہ 23 اکتوبر 2026 

