NCCIAکارروائی، کمسن بچوں کے استحصال میں ملوث مبینہ نیٹ ورک بے نقاب

Calender Icon اتوار 25 اکتوبر 2026

اسلام آباد: نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مواد کی تیاری اور فروخت میں ملوث مبینہ بین الاقوامی نیٹ ورک بے نقاب کر دیا.

جبکہ کراچی کی ایک کمسن بچی کو ہراساں اور بلیک میل کرنے کے الزام میں مرکزی ملزم کو بھی اسلام آباد سے گرفتار کرلیا گیا۔

این سی سی آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر اسلام آباد سرکل محمد شعیب خان نے پریس کانفرنس کے دوران دونوں کیسز کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ چائلڈ پورنوگرافی کے کیس میں گرفتار ملزم اپنے چار سے پانچ سالہ بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنا کر فروخت کرنے میں ملوث تھا۔ ویڈیوز کی خرید و فروخت ٹیلی گرام کے خفیہ گروپس میں کرپٹو کرنسی کے ذریعے کی جاتی تھی۔

اسکردو سے تعلق رکھنے والے ملزم سے تفتیش کے دوران جانوروں سے بدسلوکی کی ویڈیوز بھی برآمد ہوئیں۔ حکام کے مطابق ملزم کو بین الاقوامی اداروں کی معاونت سے گرفتار کیا گیا۔ جبکہ تفتیش کے دوران اسلام آباد، ملتان اور جنوبی پنجاب سے بھی اہم روابط اور شواہد حاصل ہوئے، نیٹ ورک کے دیگر مبینہ سہولت کاروں کی گرفتاری کے لیے بھی چھاپے مارے گئے۔

محمد شعیب خان نے کہا کہ بچوں کے استحصال جیسے سنگین جرائم میں ملوث عناصر کو قانون کے مطابق کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔

پریس کانفرنس میں دوسرے کیس کی تفصیلات بتاتے ہوئے این سی سی آئی اے کے ترجمان نے کہا کہ کراچی کی رہائشی ایک کمسن بچی نے مسلسل ہراسانی سے تنگ آکر خودکشی کی کوشش کی تاہم اس وقت وہ زیرعلاج ہے۔ اور متاثرہ خاندان کی مدد سے کارروائی کرتے ہوئے صرف 13 گھنٹے میں مرکزی ملزم کو ٹریس کرکے اسلام آباد سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔

این سی سی آئی اے کے مطابق ملزم گزشتہ دو تین سال سے مبینہ طور پر بچی کو مسلسل ہراساں اور بلیک میل کر رہا تھا۔

ایڈیشنل ڈائریکٹر نے کہا کہ متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کرنا ادارے کی اولین ترجیح ہے اور خواتین و بچوں کو ہراساں کرنے والوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل جاری ہے۔

’غیرقانونی مواد شیئر کرنے والوں کو انتباہ‘
شعیب خان نے سوشل میڈیا صارفین کو خبردار کیا کہ کوئی بھی نازیبا مواد اپ لوڈ کرنے سے پہلے اس کے قانونی نتائج پر غور کریں، کیونکہ غیر قانونی مواد اپ لوڈ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

واضح رہے کہ این سی سی آئی اے آن لائن فراڈ، سائبر ہراسانی، بلیک میلنگ، جعلی خبروں، اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر ہونے والے جرائم کے خلاف کام کرتا ہے اور شہریوں کی شکایات کا ازالہ کرتا ہے۔

شہری کسی بھی طرح کے سائبر کرائم کا شکار ہوں تو خاموش رہنے کے بجائے این سی سی آئی اے سے رابطہ کریں۔ جبکہ شکایات کے لیے ہیلپ لائن 1799 پر 24 گھنٹے رابطے کی سہولت دستیاب ہے۔

مزید پڑھیں:قبائلی کونسل کا مذاکراتی وفد افغانستان بھیجنے کا مطالبہ ’ذاتی خواہش‘ ہے، مشیر اطلاعات

شہریوں کو اپنا ون ٹائم پاس ورڈ (او ٹی پی)، بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات اور ذاتی معلومات کسی کے ساتھ شیئر نہ کرنے کے علاوہ جعلی ویب سائٹس پر درج مشکوک فون نمبرز سے بھی محتاط رہنا چاہیے۔ کیونکہ ایسے نمبرز پر رابطہ کرنے سے مالی نقصان کا خدشہ ہوسکتا ہے۔