طالبان کے پاس افغانستان کا کنٹرول اور مذاکرات کا اختیار نہیں، وزیر دفاع خواجہ آصف

Calender Icon منگل 28 اکتوبر 2025

اسلام آباد : وزیر دفاع خواجہ آصف نے سخت لہجے میں کہا کہ اگر کسی نے اسلام آباد کی طرف میلی نظر سے دیکھا تو اس کی آنکھیں نکال دی جائیں گی۔ انہوں نے ماضی کے ان حکمرانوں پر مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا جو طالبان کی حمایت کرتے رہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ 40 سال تک افغان مہاجرین ہمارے مہمان رہے مگر کابل کی نگاہوں میں شرم نہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ کابل کسی کا چمچہ نہ بنے بلکہ عزت دار ہمسائے کی طرح رہے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ طالبان وفد نے پانچ بار یقین دہانیاں کرائیں مگر بعد میں پیچھے ہٹ گیا۔ وزیر دفاع نے الزام عائد کیا کہ بھارت اپنی شکست کا بدلہ کابل کے ذریعے لینا چاہتا ہے اور کابل کے توسط سے پاکستان کے خلاف پراکسی جنگ چل رہا ہے۔

خواجہ آصف نے بتایا کہ قطر اور ترکیہ جیسے دوست ممالک پاکستانی موقف کے قریب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کی پہلی نشست میں ہی انہیں طالبان کے ارادوں کا اندازہ ہو گیا تھا۔

وزیر دفاع نے کہا کہ طالبان حکومت کا پورے افغانستان پر کنٹرول نہیں اور مذاکرات کا اختیار بھی کابل کے پاس نہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کابل کا پتلی تماشہ دہلی سے کنٹرول ہو رہا تھا۔