برازیل میں انتخابی شکست کے بعد بولسونارو کی پاسپورٹ منسوخی کے باوجود امریکا آمد معمہ بن گئی

Calender Icon بدھ 28 اکتوبر 2026

برازیل(Brazil) میں صدارتی انتخاب ہارنے والے دائیں بازو کے رہنما فلیویو بولسونارو پاسپورٹ جمع کرانے کے عدالتی حکم پر عمل کیے بغیر امریکا پہنچ گئے جہاں ٹرمپ انتظامیہ نے انہیں اور ان کے اہل خانہ کو ویزے جاری کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق سینیٹر فلیویو بولسونارو اتوار کو ہونے والے صدارتی انتخاب میں بائیں بازو کے رہنما اور دوبارہ منتخب ہونے والے صدر لوئیز اناسیو لولا دا سلوا سے شکست کے بعد منگل کو برازیل سے امریکا روانہ ہوئے۔ ذرائع کے مطابق وہ فلوریڈا میں اپنے بھائی ایڈوارڈو بولسونارو سے بھی مل چکے ہیں۔

فلیویو کی برازیل سے روانگی کا راستہ اور امریکا میں مستقل قیام سے متعلق ارادے تاحال واضح نہیں ہوسکے۔ برازیل کی وفاقی پولیس نے ان کی ممکنہ روانگی کا سراغ لگانے کے لیے ارجنٹائن کے حکام سے بھی رابطہ کیا تھا۔

ارجنٹائن کے حکام نے سرحدی شہر پورٹو ایگوازو کے ہوائی اڈے پر کھڑے ایک نجی طیارے اور اس کی دستاویزات کی جانچ کی تاہم ان کے مطابق طیارے کے پرواز منصوبے میں بولسونارو خاندان کا کوئی ذکر نہیں تھا۔

مزیدپڑھیں:کولمبیا کے جنوب مغربی علاقے میں حملہ، 6 افراد ہلاک

فلیویو بولسونارو بدعنوانی اور منی لانڈرنگ کے الزامات کی تحقیقات کی زد میں ہیں جن کی وہ تردید کرتے ہیں۔ برازیل کی سپریم کورٹ نے انہیں سفری دستاویزات حوالے کرنے کا حکم دیا تھا تاہم انہوں نے اس پر عمل نہیں کیا۔

صدر لولا دا سلوا نے اپنے سیاسی حریف کی امریکا میں موجودگی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جن کے پاس چھپانے کے لیے کچھ نہیں، انہیں ڈرنے کی ضرورت نہیں۔

دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ نے برطانوی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ فلیویو بولسونارو اور ان کے خاندان کو ویزے جاری کیے جائیں گے تاہم ان کی امریکا روانگی کے مکمل حالات اب بھی غیر واضح ہیں۔