آئرش کرکٹ کو بڑا دھچکا، لیگ اسپنر بین وائٹ نے ریٹائرمنٹ لے لی

Calender Icon جمعرات 29 اکتوبر 2026

آئرلینڈ کرکٹ ٹیم کے لیگ اسپنر بین وائٹ نے محض 28 سال کی عمر میں پروفیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا۔

تینوں فارمیٹس میں ملک کی نمائندگی کرنے والے کرکٹر نے اپنے کیریئر میں 43 بین الاقوامی میچز کھیلے، انہوں نے اپنے بین الاقوامی کیریئر کا آغاز جولائی 2021 میں کیا تھا اور انہیں آئرلینڈ کے لیے مستقبل میں لیگ اسپن کے شعبے میں ایک اہم آپشن کے طور پر دیکھا جا رہا تھا۔

انہوں نے اپنے آخری بین الاقوامی میچ میں گزشتہ سال دسمبر میں شرکت کی تھی جس کے بعد اب انہوں نے پروفیشنل کرکٹ سے علیحدگی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

بین وائٹ کو آئرلینڈ کی جانب سے سب سے زیادہ ٹی 20 کرکٹ میں یاد رکھا جائے گا، انہوں نے 38 ٹی 20 انٹرنیشنل میچز میں 36 وکٹیں حاصل کیں۔

وہ آئرلینڈ کے تین ٹی 20 ورلڈ کپ اسکواڈز کا بھی حصہ رہے، جن میں 2021 میں متحدہ عرب امارات، 2024 میں امریکا اور 2026 میں سری لنکا میں ہونے والے ایونٹس شامل ہیں۔تاہم ان تینوں ورلڈ کپ میں انہیں مجموعی طور پر صرف 3میچز کھیلنے کا موقع ملا۔

بین وائٹ کو طویل فارمیٹس میں بھی آئرلینڈ کی نمائندگی کا موقع ملا،انہوں نے 2023 میں2 ون ڈے انٹرنیشنل میچز کھیلے، جبکہ اسی سال 3 ٹیسٹ میچز میں بھی حصہ لیا۔

بنگلا دیش کے خلاف ٹیسٹ ڈیبیو پر انہوں نے 3 وکٹیں حاصل کیں تاہم سری لنکا کے خلاف مسلسل 2 ٹیسٹ میچز میں آئرلینڈ کو اننگز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا، جہاں بین وائٹ نے مجموعی طور پر 322 رنز دے کر صرف ایک وکٹ حاصل کی۔

بین وائٹ کو ریڈ بال کرکٹ کا تجربہ بھی حاصل نہیں تھا اور اس سے قبل انہوں نے کوئی فرسٹ کلاس میچ نہیں کھیلا تھا جس کے باعث طویل فارمیٹ میں ان کی کارکردگی متاثر ہوئی۔

بین وائٹ کے مطابق آئرلینڈ کی نمائندگی کرنا، تینوں فارمیٹس میں کھیلنا اور تین آئی سی سی کرکٹ ورلڈ کپ میں شرکت کرنا ایسے تجربات ہیں جنہیں وہ ہمیشہ فخر سے یاد رکھیں گے۔

انہوں نے کرکٹ آئرلینڈ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنے ملک کی نمائندگی کرنے اور بچپن کا خواب پورا کرنے کا موقع دیا گیا۔ وہ کرکٹ سے حاصل ہونے والی یادوں، سبق، زندگی بھر کی دوستیوں اور اس سفر میں شامل تمام افراد کے بے حد شکر گزار ہیں۔

آئرلینڈ کے ہیڈ کوچ گیری ولسن نے بین وائٹ کی ریٹائرمنٹ پر جاری بیان میں کہا کہ اگرچہ انہوں نے تمام فارمیٹس میں کرکٹ کھیلی تاہم انہیں ٹی 20 کرکٹ میں سب سے زیادہ یاد رکھا جائے گا۔

گیری ولسن کے مطابق بین وائٹ کی گیند میں اچھال پیدا کرنے اور تیز رفتاری سے بولنگ کرنے کی صلاحیت انہیں ایک مشکل بولر بناتی تھی۔

مزید پڑھیں:مولانا فضل الرحمان کو اب ریاست میں نوکری نہیں ملے گی، محسن نقوی

انہوں نے کہا کہ تین ٹی 20 ورلڈ کپ اسکواڈز کا حصہ بننا اس بات کا ثبوت ہے کہ بین وائٹ کو ان کے کیریئر کے دوران کس قدر، قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا اور انہیں اپنے حاصل کردہ اعزازات پر فخر ہونا چاہیے۔