سعودی وزیر دفاع کی ایرانی صدر کا ہاتھ چومنے کی وائرل تصویر اے آئی کی مدد سے تبدیل کی گئی ہے۔سوشل میڈیا پر سعودی وزیر دفاع کی ایرانی صدر کا ہاتھ چومنے کی وائرل تصویر کی حقیقت سامنے آگئی۔
26 اکتوبر سے فیس بک اور ایکس پر ایک تصویر گردش کر رہی تھی، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے تہران میں ملاقات کے دوران ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا ہاتھ چوما۔
دعویٰ کیا تھا؟
سوشل میڈیا پر متعدد پوسٹس کے ذریعے دعویٰ کیا گیا تھا کہ سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے تہران میں ملاقات کے دوران ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا ہاتھ چوما۔
فیکٹ چیک:
تحقیقات کے دوران تصویر میں ہاتھوں، انگلیوں اور چہرے کے گرد غیر معمولی تبدیلیاں دیکھی گئیں، جبکہ مصنوعی ذہانت کی شناخت کرنے والے مختلف ٹولز نے بھی تصویر میں اے آئی کے استعمال کی نشاندہی کی۔
ریورس امیج سرچ سے معلوم ہوا کہ اصل تصویر جولائی 2026 کی ہے، جس میں سعودی نائب وزیر خارجہ ولید الخریجی ایرانی صدر سے مصافحہ کر رہے ہیں۔ اصل تصویر میں نہ تو سعودی وزیر دفاع موجود ہیں اور نہ ہی کسی کا ہاتھ چومنے کا منظر ہے۔
مزید پڑھیں:’میرا کوئی فادر نہیں‘، سیف علی خان کی بیٹی نے ایسا کیوں کہا؟
نتیجہ: سعودی وزیر دفاع کی ایرانی صدر کا ہاتھ چومنے کی وائرل تصویر اے آئی کی مدد سے تبدیل کی گئی ہے، لہٰذا اس سے منسلک دعویٰ جھوٹا ہے۔













جمعرات 29 اکتوبر 2026 

