سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اس میں مبینہ طور پر بلوچستان میں فرنٹیئر کور (FC) کے اہلکار ایک نوجوان کو درخت سے باندھ کر آگ لگاتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔
یہ ویڈیو میکسیکو میں ریکارڈ کی گئی تھی اور اس کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
دعویٰ
یکم اکتوبر کو صارف نے ایکس، جو پہلے ٹوئٹر کے نام سے جانا جاتا تھا، پر 31 سیکنڈ دورانیے کی ویڈیو پوسٹ کی، جس میں ایک شخص کو درخت سے باندھ کر آگ لگاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ پاکستان کی نیم ملٹری فورس فرنٹیئر کور (ایف سی) کے اہلکاروں نے بلوچستان میں ایک شخص کو گولی مارنے کے بعد اس کی لاش کو آگ لگا دی۔
اس نیوز آرٹیکل کے شائع ہونے کے وقت تک پوسٹ کو 2 لاکھ 2 ہزار 900 بار دیکھا جا چکا تھا، جبکہ اسے 1,000 لائکس اور 87 کمنٹس مل چکے تھے۔

حقیقت
یہ ویڈیو بلوچستان میں ریکارڈ نہیں کی گئی تھی بلکہ اسے 2025 میں میکسیکو میں ریکارڈ کیا گیا تھا۔
کارٹیل انسائیڈر ((Cartel Insider، جو خود کو میکسیکو کے ڈرگ کارٹلز سے متعلق رپورٹنگ کرنے والا ایک آزاد صحافتی پلیٹ فارم قرار دیتا ہے، نے یہی ویڈیو 14 نومبر 2025 کو شائع کی تھی۔ رپورٹ کے مطابق، ویڈیو میں جیلیسکو نیو جنریشن کارٹیل (CJNG) سے وابستہ مسلح افراد ایک شخص کو آگ لگا کر ہلاک کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔
رپورٹ یہاں پڑھی جا سکتی ہے۔
ویڈیو میں بندوق اٹھائے ایک شخص بھی دکھائی دیتا ہے، جس کی وردی پر ’’CJNG‘‘ لکھا ہوا ہے، جو اس کے کارٹیل سے تعلق کی نشاندہی کرتا ہے۔

میکسیکو کے اخبار ریفارما (Reforma )کے نمائندے ہوزے ڈیاز بریسینیو(José Díaz Briseño ) نے بھی یہ ویڈیو ایکس پر دوبارہ شیئر کی۔ انہوں نے اسے مختلف کارٹلز کے درمیان جاری تنازع کا حصہ قرار دیا۔
ان کی پوسٹ یہاں پڑھی جا سکتی ہے۔
فیصلہ: یہ ویڈیو پاکستان کے بلوچستان میں نہیں بلکہ میکسیکو میں ریکارڈ کی گئی تھی، جس میں جیلیسکو نیو جنریشن کارٹیل (CJNG) کے مبینہ ارکان ایک شخص کو فلیم تھروور(flamethrower) سے آگ لگاتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔













پیر 5 اکتوبر 2026 

