مسقط: سلطنت عمان کے ساحلی پانیوں میں ایک بڑے بحری جہاز میں اچانک لگنے والی ہولناک آگ کے بعد ہنگامی بنیادوں پر کارروائی کرتے ہوئے میری ٹائم سیکیورٹی فورسز نے 25 رکنی عملے کو بحفاظت نکال لیا ہے۔
ترین رپورٹ کے مطابق، عمان کی بندرگاہ اور ساحلی حدود کے قریب سفر کرنے والے ایک بحری جہاز میں جمعے کے روز اچانک تکنیکی خرابی یا دیگر اسباب کی بنا پر آگ بھڑک اٹھی۔ آگ اتنی شدید تھی کہ دیکھتے ہی دیکھتے جہاز کے اہم حصوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی عمانی ساحلی محافظوں (Oman Coast Guard) اور میری ٹائم ریسکیو کوآرڈینیشن سینٹر نے فوری طور پر مشترکہ ریسکیو آپریشن کا آغاز کیا۔ انتہائی مشکل حالات اور بلند اٹھتی ہوئی آگ کے شعلوں کے باوجود، ریسکیو ٹیموں نے پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے جہاز پر سوار تمام 25 عملے کے ارکان کو بحفاظت بچا لیا۔ خوش قسمتی سے اس حادثے میں کسی قسم کے جانی نقصان کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی، تاہم جہاز کو کافی مالی نقصان پہنچا ہے۔
اس ناگہانی واقعے کے بعد خلیجی خطے اور بحیرہ عرب میں سمندری جہاز رانی کی حفاظت اور مسافروں کی سیکیورٹی کے حوالے سے بحث ایک بار پھر تازہ ہو گئی ہے۔ عمان کے متعلقہ حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ متاثرہ جہاز پر قابو پانے اور تیل یا کیمیائی مواد کے ممکنہ رساو (Oil Spill) کو روکنے کے لیے ہنگامی اقدامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔
ماہرینِ معاشیات اور میری ٹائم اینالسٹس کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز اور ملحقہ سمندری راستوں پر اس وقت بین الاقوامی تجارتی بحری جہازوں کی بہت زیادہ نقل و حرکت جاری ہے۔ ایسے میں جہازوں میں تکنیکی نقائص، شارٹ سرکٹ یا دیگر حادثات سے نمٹنے کے لیے تمام خلیجی ریاستوں کی بندرگاہوں پر ہنگامی ردِ عمل کا نظام (Emergency Response System) انتہائی فعال اور مستعد حالت میں موجود ہے، جس کی بدولت ایک بڑا جانی المیہ ٹل گیا۔
عمانی حکام نے بحری جہاز میں آتشزدگی کی اصل وجوہات جاننے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق حادثہ انجن روم میں اچانک لگنے والی آگ کے باعث پیش آیا۔ جہاز کے عملے نے ابتدائی طور پر خود آگ پر قابو پانے کی کوشش کی تھی، لیکن شعلے قابو سے باہر ہونے پر ایمرجنسی سگنل جاری کیا گیا جس پر فوری امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔
حکومتِ عمان نے واضح کیا ہے کہ خلیجی پانیوں سے گزرنے والے تمام ملکی اور غیر ملکی بحری جہازوں کے لیے بین الاقوامی معیار کے سیفٹی پروٹوکولز (Safety Protocols) پر سختی سے عمل درآمد کرایا جا رہا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے ناگہانی حادثات سے بچا جا سکے اور سمندری ماحول کو آلودگی سے محفوظ رکھا جا سکے۔













جمعہ 30 اکتوبر 2026 

