پاکستان پر خاموش تباہی کا سایہ: کروڑوں شہری شدید ذہنی امراض اور ہیپاٹائٹس کے شکار

Calender Icon جمعہ 30 اکتوبر 2026

اسلام آباد: وزارتِ قومی صحت نے قومی اسمبلی میں ملک میں بیماریوں کے پھیلاؤ کے حوالے سے سنسنی خیز اعداد و شمار پیش کر دیے ہیں، جن کے مطابق 3 کروڑ 24 لاکھ پاکستانی ذہنی امراض اور 1 کروڑ 29 لاکھ ہیپاٹائٹس میں مبتلا ہیں۔

ذہنی امراض کی ابتر صورتحال اور ماہرینِ نفسیات کی شدید قلت:
وزارتِ قومی صحت کی جانب سے ایوان میں جمع کروائی گئی تشویشناک رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں ذہنی امراض کے شکار افراد کی تعداد 3 کروڑ 24 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ سال 2019ء میں یہ تعداد 3 کروڑ ریکارڈ کی گئی تھی، جس میں گزشتہ پانچ سالوں کے دوران 24 لاکھ کا بڑا اور خوفناک اضافہ دیکھا گیا ہے۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی 3 لاکھ سے زائد شہری مختلف قسم کے نفسیاتی اور ذہنی مسائل کا شکار ہیں۔

رپورٹ میں سب سے بڑا انکشاف یہ کیا گیا ہے کہ ملک کو اس وقت ماہرینِ نفسیات (Psychiatrists) کی شدید اور ہنگامی نوعیت کی قلت کا سامنا ہے۔ قومی سطح پر صرف 1,050 ماہرِ نفسیات بالواسطہ رجسٹرڈ ہیں، جس کا سادہ الفاظ میں مطلب یہ ہے کہ پاکستان میں ہر 2 لاکھ 45 ہزار شہریوں کے لیے صرف ایک سائیکاٹرسٹ دستیاب ہے۔ صوبائی بنیادوں پر جائزہ لیا جائے تو پنجاب میں 406، سندھ میں 228، خیبر پختونخوا میں 122 اور بلوچستان میں صرف 44 ماہرینِ نفسیات قومی سطح پر رجسٹرڈ ہیں، جو صحت کے بنیادی ڈھانچے پر شدید سوالیہ نشان ہے۔

ہیپاٹائٹس سی کا پھیلاؤ اور عالمی رینکنگ میں پہلا نمبر:
وزارتِ قومی صحت نے قومی اسمبلی کو آگاہ کیا کہ پاکستان اس وقت ہیپاٹائٹس سی کے مریضوں کی عالمی فہرست میں دنیا بھر میں پہلے نمبر پر آ چکا ہے، جبکہ ہیپاٹائٹس سی کی وجہ سے ہونے والی اموات کی عالمی درجہ بندی میں بھی پاکستان دنیا کے ٹاپ 10 ممالک میں شامل ہو چکا ہے۔

عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مستند اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ہیپاٹائٹس سی کے مریضوں کی تعداد 90 لاکھ تک پہنچ چکی ہے جبکہ 38 لاکھ 60 ہزار سے زائد شہری ہیپاٹائٹس بی کا شکار ہیں۔ اس طرح مجموعی طور پر 1 کروڑ 29 لاکھ افراد ہیپاٹائٹس بی یا سی میں مبتلا ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ملک میں ہر سال 48 ہزار افراد ہیپاٹائٹس کی پیچیدگیوں کی وجہ سے جاں بحق ہو رہے ہیں، جبکہ صرف سال 2024ء کے دوران ہیپاٹائٹس سی کے 88 ہزار سے زائد نئے کیسز (Infections) رپورٹ ہوئے۔

ایچ آئی وی ایڈز کی ہولناک صورتحال اور ٹیسٹنگ کا دائرہ کار:
وزارتِ صحت نے ایوان کو ایچ آئی وی ایڈز کے تشویشناک اعداد و شمار بھی پیش کیے۔ رپورٹ کے مطابق عالمی ادارہ صحت کے تخمینے کے مطابق پاکستان میں ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کی کل تعداد 4 لاکھ 17 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ ان میں سے صرف 92,148 افراد باقاعدہ طور پر رجسٹرڈ ہیں اور 67,878 افراد کو اینٹی ریٹرو وائرل تھراپی (ART) کی سہولت میسر ہے۔

رپورٹ کے مطابق سال 2010ء کے مقابلے میں 2024ء میں ایچ آئی وی کے سالانہ نئے کیسز کی تعداد 16 ہزار سے بڑھ کر 48 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔ تاہم، سال 2020ء کے مقابلے میں 2025ء کے دوران ملک بھر میں سکریننگ اور ٹیسٹنگ کے دائرہ کار کو وسیع کیا گیا، جس کے تحت ٹیسٹنگ کی تعداد 37,944 سے بڑھا کر 3 لاکھ 74 ہزار سے زائد کر دی گئی۔

معصوم بچوں میں ایڈز کے وائرس کی منتقلی اور صوبائی صورتحال:
دستاویزات میں معصوم بچوں کے اندر ایچ آئی وی ایڈز کے پھیلاؤ سے متعلق دل دہلا دینے والے انکشافات بھی سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق جنوری 2025ء سے جون 2026ء کے عرصے کے دوران ملک بھر میں ایچ آئی وی سے متاثرہ 3,900 بچوں کو باقاعدہ رجسٹرڈ کیا گیا۔

صوبائی اعداد و شمار کے مطابق بچوں میں ایچ آئی وی کی منتقلی کے معاملے میں صوبہ سندھ سب سے آگے ہے، جہاں متاثرہ بچوں کی تعداد 1,915 ہے، جبکہ پنجاب 1,765 متاثرہ بچوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ خیبر پختونخوا میں 139، بلوچستان میں 46، اسلام آباد میں 30، آزاد کشمیر میں 4 اور گلگت بلتستان میں 1 بچہ ایچ آئی وی سے متاثر پایا گیا۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ عطائی ڈاکٹروں کا استعمال، آلودہ سرنجیں اور غیر معیاری بلڈ ڈونیشن کا نظام بچوں میں اس موذی مرض کے پھیلاؤ کی بنیادی وجوہات ہیں۔