میانمار کے ایلچی کی اقوامِ متحدہ میں جذباتی اپیل، دنیا سے مدد کا مطالبہ

Calender Icon اتوار 1 نومبر 2026

نیویارک: اقوامِ متحدہ (UN) میں میانمار کے مستقل نمائندے نے اپنے ملک کی تشویشناک صورتحال پر انتہائی جذبات سے مغلوب ہوتے ہوئے عالمی برادری اور رکن ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ ان کے عوام کے مصائب پر اپنی خاموشی توڑیں اور جاری بحران کے خاتمے کے لیے فوری اور عملی اقدامات کریں۔

اقوامِ متحدہ کے پلیٹ فارم پر جذباتی اپیل:
میانمار کے سفیر کیاؤ مو ٹن (Kyaw Moe Htun) نے اقوامِ متحدہ کے جنرل اسمبلی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی برادری نے میانمار کے مظلوم عوام کو بار بار مایوس کیا ہے اور ان کے دکھوں پر مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک میں جمہوری حکومت کے خاتمے کے بعد سے عوام جس شدید کرب اور تباہی سے گزر رہے ہیں، اسے روکنا دنیا کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔ کیاؤ مو ٹن کو سنہ 2021ء میں عسکری بغاوت کے ذریعے منتخب جمہوری حکومت کے خاتمے سے قبل اس عہدے پر تعینات کیا گیا تھا اور وہ تب سے اب تک اقوامِ متحدہ میں میانمار کے جمہوری حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

شہدا کا رومال اور عالمی برادری سے شکوہ:
اپنی انتہائی جذباتی تقریر کے دوران سفیر کیاؤ مو ٹن آبدیدہ ہو گئے اور انہوں نے ہال میں ایک مخصوص کپڑا اور رومال فخر اور دکھ کے ساتھ لہرایا، جس پر میانمار کی جمہوری جدوجہد کے دوران اپنی جانیں قربان کرنے والے “گمشدہ اور گمنام ہیروز” اور فوجی کارروائیوں میں جاں بحق ہونے والے بے گناہ شہریوں کے نام اور عمریں درج تھیں۔

انہوں نے عالمی نمائندوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس کپڑے پر درج ہر نام اس بات کا ثبوت ہے کہ بین الاقوامی تاخیر اور بے حسی کی کیا قیمت میانمار کا عام شہری ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے دنیا سے مطالبہ کیا کہ وہ الفاظ کی حد تک ہمدردی جتانے کے بجائے میانمار کے عوام کے دکھوں کا عملی طور پر خاتمہ کرے۔