کیلیفورنیا: دنیا کی سب سے بڑی ویڈیو شیئرنگ ویب سائٹ یوٹیوب (YouTube) نے اپنے ڈیسک ٹاپ اور موبائل ہوم پیج میں نمایاں تبدیلیاں کرتے ہوئے صارفین کو اپنی پسند کے مطابق کسٹم ویڈیو فیڈز (Custom Feeds) بنانے کی سہولت فراہم کر دی ہے۔
مصنوعی ذہانت اور کسٹم فیڈز کا استعمال:
اس نئے فیچر کے تحت صارفین اب صرف خودکار سفارشات (Recommendations) پر منحصر رہنے کے بجائے اپنی الگ فیڈ خود ڈیزائن کر سکتے ہیں۔ ہوم پیج کے اوپر دیے گئے پلس (+) کے بٹن کو دبا کر صارفین عام زبان میں اپنی پسندیدہ ویڈیوز کی نوعیت لکھ سکتے ہیں؛ مثال کے طور پر ‘شارٹ میڈیٹیشن سیشنز’ یا ‘یوگا ورزش’ ٹائپ کرنے پر یوٹیوب فوراً اس موضوع سے متعلق ویڈیوز کی ایک خصوصی فیڈ تیار کر دے گا۔
یہ فیڈز ہوم اسکرین کے اوپر محفوظ رہیں گی اور انہیں بعد میں ایڈٹ بھی کیا جا سکے گا۔ 30 دن تک استعمال نہ ہونے کی صورت میں یہ فیڈز ازخود ختم ہو جائیں گی۔ یوٹیوب کے عام صارفین بیک وقت 3 جبکہ پریمیم (Premium) سبسکرائبرز 8 مختلف کسٹم فیڈز محفوظ کر سکتے ہیں۔ فی الحال یہ فیچر امریکہ میں 13 سال سے زائد عمر کے انگریزی صارفین کے لیے فعال کیا گیا ہے۔
ہوم پیج اور سبسکرپشن لے آؤٹ میں بڑی تبدیلیاں:
یوٹیوب نے موبائل ایپ کے ہوم پیج پر نیویگیشن کو زیادہ آسان بنانے کے لیے سبسکرپشنز (Subscriptions) کے سیکشن کو سب سے اوپر منتقل کر دیا ہے۔
اس کے علاوہ لائیو اسٹریمنگ (Live)، میوزک (Music)، اور موویز و ٹی وی (Movies & TV) کے لیے الگ الگ مخصوص ٹیبز شامل کر دیے گئے ہیں تاکہ صارفین الگ سے تلاش کیے بغیر اپنے مطلوبہ مواد تک فوری رسائی حاصل کر سکیں۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ امریکہ میں ابتدائی مرحلے کے بعد اس سہولت کو جلد دیگر ممالک اور زبانوں میں بھی متعارف کرایا جائے گا۔
ڈیوائسز کے درمیان مطابقت اور الگورتھم کنٹرول:
یوٹیوب کی اس نویلیٹنگ اپڈیٹ میں کراس پلیٹ فارم سنکرونائزیشن (Cross-Platform Synchronization) کو بھی یقینی بنایا گیا ہے۔ اگر کوئی صارف اپنے اینڈرائیڈ یا آئی او ایس (iOS) اسمارٹ فون پر کوئی کسٹم فیڈ تیار کرتا ہے، تو وہی فیڈ خودکار طور پر ڈیسک ٹاپ اور لیپ ٹاپ لاگ ان پر بھی ظاہر ہوگی، بشرطیکہ وہ ایک ہی گوگل اکاؤنٹ سے منسلک ہوں۔
ٹیکنالوجی ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ اقدام الگورتھم کنٹرول (Algorithm Control) صارفین کے ہاتھ میں دینے کی ایک بڑی کوشش ہے۔ اس سے قبل صارفین اکثر ایسی ویڈیوز دیکھنے پر مجبور تھے جو الگورتھم خودکار تجویز کرتا تھا، لیکن اب صارفین اپنی پڑھائی، کھیل، یا تفریح کے وقت کے مطابق الگ الگ فیڈز بنا کر پلیٹ فارم کے استعمال کو زیادہ مفید اور نتیجہ خیز بنا سکتے ہیں۔
یوٹیوب کری ایٹرز اور مواد کی رسائی پر اثرات:
اس نئ پیشرفت کا سیدھا اثر یوٹیوب مواد تخلیق کرنے والوں (Content Creators) اور ان کے ناظرین کی تعداد پر پڑے گا۔ مخصوص موضوعات پر مبنی کسٹم فیڈز کے باعث چھوٹے اور نچ (Niche) کری ایٹرز کو اپنی متعلقہ ٹارگٹ آڈیئنس تک پہنچنے کے بہترین مواقع حاصل ہوں گے، کیونکہ صارف جب بھی اپنے پسندیدہ موضوع کی فیڈ پر کلک کرے گا، تو اس سے متعلقہ ویڈیوز براہِ راست اس کے سامنے آئیں گی۔
گوگل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ صارفین فیڈ بیک کے بعد اس فیچر میں مزید زبانوں اور ڈائریکٹ سرچ الگورتھمز کی بہتری کو شامل کیا جائے گا، جس سے آئندہ چند ماہ میں دنیا بھر کے کروڑوں یوٹیوب صارفین کا ڈیجیٹل تجربہ مکمل طور پر بدل جائے گا۔













اتوار 1 نومبر 2026 

