امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نتن یاہو(Netanyahu) کے درمیان ایک اہم ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے جس میں ایران کے ساتھ امریکی مذاکرات کی تازہ صورت حال اور عسکری کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کی ٹائم لائن پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا۔
امریکی خبر رساں ادارے ’ایگزیوس‘ نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ اس گفتگو کے دوران اسرائیلی وزیراعظم نے صدر ٹرمپ پر زور دیا کہ وہ منگل کو ہونے والے امریکی وسط مدتی (مڈ ٹرم) انتخابات کے فوراً بعد ایران پر حملے کریں۔ تاہم، صدر ٹرمپ فی الوقت عسکری اقدام کے بجائے سفارتی مذاکرات کو مزید موقع دینے کے خواہاں ہیں، جس پر اسرائیلی قیادت میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
اسرائیلی ذرائع نے دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والے اس رابطے کو ’سخت‘ قرار دیا ہے جبکہ ایک امریکی اہلکار نے اسے براہِ راست اور دوٹوک گفتگو سے تعبیر کیا ہے۔
وائٹ ہاؤس اور اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے اس رابطے پر سرکاری تبصرے سے معذرت کی گئی ہے، تاہم، امریکی اخبار ’وال اسٹریٹ جرنل‘ نے بھی صدر ٹرمپ اور نتن یاہو کے درمیان گفتگو کی تصدیق کی ہے۔
مزیدپڑھیں:ایران نے برطانیہ کی بحری اور فضائی افواج کو دہشت گرد تنظیمیں قرار دے دیا
ماضی کے دو بڑے امریکی ملٹری آپریشنز کی طرح، صدر ٹرمپ اس وقت بھی دوہری حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہیں، جہاں ایک طرف امن مذاکرات کی بحالی کی کوششیں کی جا رہی ہیں تو دوسری جانب مڈ ٹرم انتخابات کے بعد ممکنہ طور پر بڑی عسکری کارروائیوں کی تیاریاں بھی جاری ہیں۔
اس سلسے میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے گزشتہ ہفتے ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی کو ایک خط بھی ارسال کیا تھا، جسے گزشتہ چند ماہ کے دوران دونوں ممالک کے درمیان سب سے اعلیٰ سطح کا رابطہ قرار دیا جا رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات صحیح سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں اور انہیں اس سلسلے میں کوئی جلد بازی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ”اگرچہ ایرانی حکام معاہدہ کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ مکمل طور پر قابلِ اعتماد نہیں ہیں کیونکہ وہ معاہدہ کر کے اس سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔“
اس کے ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ امریکا کو ایران کی ایک یا دو جوہری تنصیبات کا معاملہ حل کرنا ہوگا، جن میں پہاڑ کے اندر تعمیر کی گئی مشتبہ جوہری تنصیب ’پک ایکس ماؤنٹین‘ بھی شامل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے منصوبہ بندی مکمل ہے اور امریکی افواج چند منٹوں میں اس تنصیب کے خلاف کارروائی کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
دوسری جانب، امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان براہِ راست مذاکرات کی بحالی کے لیے قطری ثالثوں نے اتوار کے روز مسلسل تیسرے دن بھی ایرانی حکام سے ملاقاتیں کی ہیں۔
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ فی الحال فریقین کے درمیان کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پا سکا اور پیش رفت کا انحصار اس بات پر ہے کہ امریکا ایران کے اٹھائے گئے سوالات کے کیا جوابات دیتا ہے۔
ایرانی وزیرِ خارجہ نے امید ظاہر کی کہ دوسرا فریق دیگر راستے منتخب کرنے کے بجائے سفارت کاری کو ترجیح دینے کے لیے عقل و فہم کا مظاہرہ کرے گا۔













پیر 2 نومبر 2026 

