ایف آئی آر سرکاری ملازمت سے نااہلی کی بنیاد نہیں، اہم اصول وضع

Calender Icon بدھ 4 نومبر 2026

وفاقی آئینی عدالت نے مقدمے سے بریت کے باوجود پولیس بھرتی سے نااہلی کا فیصلہ کالعدم قرار دیدیا۔ قرار دیا کہ محض ایف آئی آر کا اندراج سرکاری ملازمت سے محرومی کا جواز نہیں۔

عدالت کا درخواست گزار کو 30 دن میں تعیناتی کا حکم دیدیا۔ چیف جسٹس امین الدین خان نے سرکاری بھرتیوں کے لیے 6 اہم آئینی اصول بھی وضع کر دیے۔

وفاقی آئینی عدالت نے مقدمے سے بریت کے باوجود سرکاری ملازمت سے محرومی کا پولیس کا اقدام غیر قانونی قرار دے دیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ محض ایف آئی آر کا اندراج کسی امیدوار کی نااہلی کا جواز نہیں بن سکتا۔

فیصلے میں قرار دیا گیا کہ ایف آئی آر جرم کا ثبوت نہیں۔ بریت کے بعد محض شبہے کی بنیاد پر امیدوار کو ملازمت سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ ڈی جی خان پولیس کے کریکٹر سرٹیفکیٹ کو بھی ٹھوس وجوہات کے بغیر نظرانداز کرنا غیر قانونی قرار دیا گیا۔

چیف جسٹس امین الدین خان نے سرکاری بھرتیوں کے لیے 6 آئینی اصول بھی طے کر دیے۔ عدالت کے مطابق امیدوار کی نااہلی مستند شواہد پر مبنی ہونی چاہیے۔

عدالتی بریت کا احترام لازم ہے اور منفی کریکٹر رپورٹ قیاس آرائی پر نہیں بنائی جا سکتی۔ زیر سماعت مقدمات کا ذکر ان کی قانونی حیثیت تک محدود ہوگا جبکہ کسی امیدوار کو سماعت کا موقع دیے بغیر بھرتی سے خارج نہیں کیا جا سکے گا۔

درخواست گزار عبداللطیف نے 2018 میں مقدمے سے بریت کے بعد ڈرائیور کانسٹیبل کی بھرتی میں دوسری پوزیشن حاصل کی لیکن پولیس نے انہیں نااہل قرار دے دیا۔

مزید پڑھیں:نیا واٹس ایپ فیچر،پیغام کے نمبر سے کال، تاریخ سے ایونٹ اور پتے سے مقام تلاش کرنا ممکن

لاہور ہائیکورٹ سے ریلیف نہ ملنے پر انہوں نے وفاقی آئینی عدالت سے رجوع کیا۔ عدالت نے نااہلی کا نوٹیفکیشن اور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے حکم دیا کہ 30 دن میں طبی معائنہ اور دیگر قانونی کارروائی مکمل کرکے تعیناتی کا آرڈر جاری کیا جائے۔