امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ(Pete Hegseth) کو وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی شکست کے بعد ایران جنگ کے معاملے پر اپنی ہی جماعت کے بعض رہنماؤں کی بڑھتی ہوئی تنقید کا سامنا ہے، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ بدستور ان کی حمایت کر رہے ہیں۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق ریپبلکن پارٹی کے بعض رہنماؤں کا خیال ہے کہ ایران کے خلاف غیر مقبول جنگ کی ذمہ داری وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ پر عائد ہونی چاہیے، جسے پارٹی کی انتخابی شکست کی ایک وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے قریبی ایک ریپبلکن رہنما نے سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر صدر واقعی کسی کو اس جنگ کا ذمہ دار ٹھہرانا چاہتے ہیں تو وہ پیٹ ہیگسیتھ ہونے چاہئیں۔
ریپبلکن رکنِ کانگریس تھامس میسی نے وزیرِ دفاع کے خلاف مواخذے کی آٹھ دفعات پیش کر دی ہیں اور ایوانِ نمائندگان میں اس معاملے پر ووٹنگ کرانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
مزیدپڑھیں:یونان: 50 سے زائد نقاب پوش افراد کا پیٹرول بم اور خطرناک ہتھیاروں سے طلبہ پر حملہ
دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو صحافیوں سے گفتگو میں وزیرِ دفاع کو عہدے سے ہٹانے کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں ہیگسیتھ بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔
ریپبلکن سینیٹر تھام ٹلس نے بھی خبردار کیا ہے کہ وزیرِ دفاع کو اپنے اقدامات پر جواب دہی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے دفاعی اخراجات کے معاملے پر قانون سازوں کے ساتھ اختلافات کا حوالہ دیا۔
ادھر ڈیموکریٹس نے پینٹاگون میں پیٹ ہیگسیتھ کی قیادت کے حوالے سے تحقیقات کرانے کا اعلان کیا ہے۔ ان تحقیقات میں ایران جنگ سے نمٹنے کے طریقہ کار، اعلیٰ فوجی افسران کو عہدوں سے ہٹانے اور لاطینی امریکا میں فوجی کارروائیوں کے معاملات بھی شامل ہوں گے۔













جمعرات 5 نومبر 2026 

