اسلام آباد: سینیٹر کامران مرتضیٰ(Kamran Murtaza) نے کوئٹہ میں اپنی رہائش گاہ اور اپنے آبائی گھر پر مبینہ طور پر پولیس اہلکاروں کے دھاوے، خواتین اور بچوں کو ہراساں کرنے اور اہلکاروں کی جانب سے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کے معاملے پر سینیٹ میں تحریک استحقاق جمع کرا دی ہے۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ کی جانب سے جمع کرائی گئی تحریک کے مطابق 4 نومبر 2026 کو تقریباً 40 افراد نے کوئٹہ کی سنگل ہاؤسنگ اسکیم میں واقع ان کے ذاتی گھر نمبر D-70 پر دھاوا بولا۔ ان کے مطابق مذکورہ افراد نے گھر کے مرکزی گیٹ پر لاتیں ماریں، دیواروں پر چڑھ کر تصاویر بنائیں اور گھر کے باہر نصب بجلی کے میٹر کی بھی تصاویر بنائیں۔
تحریک میں مزید کہا گیا ہے کہ شور شرابے کے باعث محلے کے لوگ جمع ہوگئے اور وہاں موجود بعض طلبہ نے اپنے موبائل فون سے ان افراد کی ویڈیوز بنانے کی کوشش کی، تاہم مبینہ طور پر انہیں ایسا کرنے سے روک دیا گیا۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ کے مطابق بعد ازاں مذکورہ افراد پولیس اہلکاروں کے ہمراہ ان کے آبائی گھر نمبر D-22، سنگل ہاؤسنگ اسکیم، کوئٹہ بھی پہنچے، جو ان کی ذاتی رہائش گاہ سے کچھ فاصلے پر واقع ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اہلکاروں نے گھر کے دروازوں پر لاتیں ماریں اور گھر میں موجود خواتین اور بچوں کو ہراساں کیا۔
تحریک کے مطابق اس وقت ان کے چھوٹے بھائی عدنان کے علاوہ گھر میں خواتین اور بچے بھی موجود تھے۔ سینیٹر کا کہنا ہے کہ ان کے بھائی نے مذکورہ اہلکاروں سے شناخت ظاہر کرنے کا مطالبہ کیا، لیکن انہوں نے اپنی شناخت بتانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کہنے پر وہاں آئے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہونے کے بعد مذکورہ افراد وہاں سے چلے گئے۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے تحریک استحقاق میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ اگر کسی سینیٹر کی رہائش گاہ پر اس کی عدم موجودگی میں حملہ کیا جائے اور اس کے گھر میں موجود خواتین اور بچوں کو ہراساں کیا جائے تو اس سے نہ صرف متعلقہ رکن پارلیمنٹ بلکہ عام شہریوں کی عزت اور تحفظ کا معاملہ بھی پیدا ہوتا ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی تحریک کو متعلقہ کمیٹی کے سپرد کیا جائے تاکہ کوئٹہ میں پیش آنے والے مبینہ واقعے کا جائزہ لے کر اس کی رپورٹ ایوان میں پیش کی جا سکے۔














جمعرات 5 نومبر 2026 

