خیبرپختونخوا، ضلع خیبر میں پولیو کا ایک اور کیس سامنے آ گیا، تعداد 9 ہوگئی

Calender Icon جمعرات 5 نومبر 2026

خیبرپختونخوا کے ضلع خیبر میں 4 روز بعد ایک اور پولیو کیس سامنے آ گیا ہے جس کے بعد پاکستان میں رواں برس رپورٹ ہونے والے پولیو کیسز کی تعداد 9 ہوگئی ہے۔

نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر (نیشنل ای او سی) نے یکم نومبر کو ضلع خیبر سے ایک پولیو کیس رپورٹ ہونے کی تصدیق کی تھی۔ پاکستان میں رواں برس اب تک رپورٹ ہونے والے 9 کیسز میں سے 7 کا تعلق خیبر پختونخوا جبکہ 2 کا تعلق صوبہ سندھ سے ہے۔

پاکستان میں آج سامنے آنے والے نئے پولیو کیس کا انکشاف وزیراعظم محمد شہباز شریف کے زیر صدارت انسداد پولیو سے متعلق جائزہ اجلاس میں کیا گیا۔ دوران اجلاس ملک میں حالیہ پولیو کیسز اور انسداد پولیو کے حوالےسے اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔

اجلاس کے دوران وزیراعظم کو بتایا گیا کہ آج ہی ضلع خیبر سے پولیو کا نیا کیس سامنے آیا ہے جس کے بعد رواں سال ملک میں پولیو کیسز کی تعداد 9 ہو گئی جس پر وزیراعظم نے گہری تشویش کا اظہار کیا۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ 2026 میں صوبہ خیبر پختونخوا میں ضلع خیبر اور بنوں سے 3، 3 جبکہ شمالی وزیرستان سے ایک پولیو کیس سامنے آیا، ضلع خیبر سے سامنے آنے والے تمام پولیو کیسز افغانستان کے پولیو وائرس سے متعلق ہیں۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ رواں برس صوبہ سندھ میں ضلع کراچی شرقی سے ایک اور ضلع سجاول سے ایک پولیو کیس سامنے آیا۔ بریفنگ میں افغانستان سے ہونے والی آمد و رفت کو پاکستان میں پولیو کے پھیلاؤ کی بڑی وجہ قرار دیا گیا۔

اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ صوبہ پنجاب میں فروری 2025 سے پولیو کا کوئی نیا کیس سامنے نہیں آیا، اسی طرح صوبہ بلوچستان سے 2025 اور 2026 میں پولیو کا کوئی نیا کیس سامنے نہیں آیا، جبکہ آزاد جموں وکشمیر اور گلگت بلتستان پہلے سے پولیو سے پاک ہیں۔

انسداد پولیو ٹیموں کی سکیورٹی بہتر بنائی جائے، وزیراعظم
اجلاس کو بتایا گیا کہ رواں سال صوبہ سندھ کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مقدار میں کمی دیکھنے میں آئی ہے، انسداد پولیو ٹیموں کی سکیورٹی بہتر بنانے اور انہیں خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع میں بہتر رسائی دینے کے حوالےسے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پولیو سے پاک پاکستان کا حصول ایک بڑا چیلنج ہے تاہم ہمارا عزم اور حوصلہ اس چیلنج سے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبوں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ قریبی مشاورت اور مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے پاکستان سے پولیو کا مکمل خاتمہ یقینی بنانا ہے۔ وزیراعظم نے ملک بھر میں انسداد پولیو مہمات کی کامیاب انعقاد کے لیے فرنٹ لائن پولیو ورکرز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے عزم، محنت اور خدمات کو سراہا۔

وزیراعظم نے کہا کہ انسداد پولیو مہمات کے دوران فرنٹ لائن ورکرز کی مسلسل رسائی اور ان کی سکیورٹی یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ملک بھر میں معمول کے حفاظتی ٹیکہ جات (روٹین امیونائزیشن) اور خصوصی طور پر پولیو سے متاثرہ اور پولیو کے حوالے سے تشویش کے حامل علاقوں میں حفاظتی ٹیکہ جات کی کوریج بڑھانے کی ہدایت کی۔

انہوں نے سکیورٹی کے حوالے سے حساس اور مشکل علاقوں میں انسداد پولیو مہمات کے لیے رسائی میں نمایاں بہتری کو قابلِ تحسین قرار دیتے ہوئے کہا کہ پولیو کے خلاف پہلے سے زیادہ بہتر حکمت عملی اور بھرپور جدوجہد سے آگے بڑھنا ہو گا۔

وزیراعظم نے وفاقی وزیر، وزیر مملکت، سیکرٹری قومی صحت اور انسداد پولیو ٹیم کے اراکین کو فوری طور پر چاروں صوبوں کا فوری دورہ کر کے وزرائے اعلیٰ اور چیف سیکریٹریز سے ملاقاتوں کی ہدایت کی۔

مزید پڑھیں:پشاور: سلنڈر دھماکے میں زخمی 3  بچے جاں بحق، خاتون بیٹی سمیت زخمی

اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر قومی صحت سید مصطفیٰ کمال، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وزیر مملکت برائے قومی صحت ڈاکٹر ملک مختار احمد بھرتھ، وزیراعظم کی فوکل پرسن برائے انسداد پولیو سینٹر عائشہ رضا فاروق اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔