پشاور کے علاقے پجگی روڈ پر واقع ایک مکان میں گیس سلنڈر کے خوفناک دھماکے سے گھر کی چھت زمین بوس ہو گئی، جس کے نتیجے میں شدید زخمی ہونے والے 5 افراد میں سے 3 بچے لیڈی ریڈنگ اسپتال میں علاج کے دوران دم توڑ گئے۔
تفصیلات کے مطابق پجگی روڈ کے قریب ایک گھر میں گزشتہ شب مبینہ گیس لیکج کے باعث سلنڈر دھماکا ہوا، جس کی شدت سے مکان کی چھت گر گئی۔حادثے کے نتیجے میں ایک خاتون اور 4 بچے ملبے تلے دب کر شدید زخمی ہو گئے۔
اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی ٹیموں نے فوری موقع پر پہنچ کر امدادی کارروائی شروع کی اور تمام زخمیوں کو ملبے سے نکال کر تشویشناک حالت میں لیڈی ریڈنگ اسپتال منتقل کیا۔ ریسکیو حکام کے مطابق 2 بچوں کی حالت ابتدائی طور پر ہی نازک بتائی جا رہی تھی۔
ترجمان لیڈی ریڈنگ اسپتال کے مطابق اسپتال میں زیرِ علاج زخمی بچوں میں سے 3 بچے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گئے، جبکہ ایک بچی اور خاتون فی الوقت اسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان میں کروڑوں گھرانے ایندھن کے طور پر مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) استعمال کرتے ہیں۔ عام طور پر یہ گیس گلی محلوں اور چھوٹے بازاروں میں واقع گیس ایجنسیوں سے تقریباً 12 کلو یا اس سے بھی چھوٹے سلنڈروں میں بھروا کر لائی جاتی ہے۔
ان سلنڈروں کی سیفٹی اور کوالٹی چیک کرنے کا کوئی باقاعدہ نظام موجود نہیں ہے کیونکہ یہ سلنڈر اوگرا سے رجسٹرڈ کسی گیس پلانٹ تک پہنچتے ہی نہیں جہاں ان کی سیفٹی چیک ہونے کا امکان موجود ہوتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ملک کے مختلف حصوں بشمول وفاقی دارالحکومت سے سلنڈر پھٹنے کے واقعات رپورٹ ہوتے رہتے ہیں۔ امسال جنوری میں اسلام آباد میں ایک گھر میں شادی کی تقریب کے دوران سلنڈر دھماکے میں دلہا اور دلہن سمیت 8 افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔
پشاور سلنڈر دھماکے میں 3 بچوں کی وفات پر گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
ایک بیان میں انہوں نے متاثرہ خاندان سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ معصوم بچوں کی قیمتی جانوں کا ضیاع انتہائی افسوسناک اور دردناک ہے۔
مزید پڑھیں:سعودی عرب اور شام کے درمیان دفاعی تعاون کے معاہدے پر دستخط
گورنر فیصل کریم کنڈی نے دھماکے میں زخمی ہونے والی خاتون اور بچی کی جلد صحتیابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تمام زخمیوں کو اسپتال میں بہترین طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور علاج معالجے میں کسی قسم کی کوتاہی نہ برتی جائے۔













جمعرات 5 نومبر 2026 
