تیل مہنگا ہونے پر سونے کی قیمت میں ایک فیصد سے زائد کمی

Calender Icon جمعہ 6 نومبر 2026

عالمی منڈی میں جمعہ کو سونے کی قیمتوں(Gold Rates) میں کمی ریکارڈ کی گئی جس کی بنیادی وجہ تیل کی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ تھا۔ تیل مہنگا ہونے سے افراطِ زر کے خدشات بڑھ گئے جبکہ شرحِ سود طویل عرصے تک بلند رہنے کے امکانات نے بھی سونے کی قیمتوں پر دباؤ ڈالا۔ دوسری جانب سرمایہ کار امریکی روزگار سے متعلق اہم اعداد و شمار کے اجرا کے منتظر رہے۔

عالمی منڈی میں اسپاٹ گولڈ کی قیمت 1.1 فیصد کمی سے 4,044.09 ڈالر فی اونس پر آگئی، تاہم اس کے باوجود اگست کے اواخر کے بعد سونے کی بہترین ہفتہ وار کارکردگی ریکارڈ کیے جانے کا امکان تھا۔

امریکا میں دسمبر میں فراہمی کے لیے سونے کے فیوچرز کی قیمت بھی 1.5 فیصد کمی کے بعد 4,053.30 ڈالر فی اونس ہوگئی۔

ٹیسٹی لائیو میں گلوبل میکرو کے سربراہ الیا اسپیوک نے کہا کہ گزشتہ ایک روز کے دوران خام تیل کی قیمتوں میں مجموعی طور پر دوبارہ اضافہ ہوا جو افراطِ زر کے ان عوامل میں سے ایک ہے جس کے باعث سونے کی قیمتوں پر دباؤ برقرار ہے۔

تیل کی قیمتوں میں ایک فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، تاہم ایران تنازع میں کشیدگی کم ہونے کی توقعات کے باعث ہفتہ وار بنیادوں پر تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا امکان برقرار رہا۔ یہ توقعات امریکی انتخابات کے نتائج کے بعد پیدا ہوئیں جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں تیل کی سپلائی سے متعلق مسلسل خدشات نے قیمتوں کو سہارا دیا۔

توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے یہ توقعات مزید مضبوط ہو سکتے ہیں کہ امریکی فیڈرل ریزرو (فیڈ) شرحِ سود کو طویل عرصے تک بلند سطح پر برقرار رکھے گا جس سے سونے جیسی غیر منافع بخش سرمایہ کاری پر دباؤ بڑھے گا۔

ایشیا کی ٹیکنالوجی پر مرکوز اسٹاک مارکیٹوں میں شدید مندی دیکھی گئی کیونکہ ضابطہ جاتی نگرانی میں اضافے کے خدشات اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں سرمایہ کاری کی رفتار سست پڑنے کے اندیشوں نے امریکی اسٹاک مارکیٹ کو اپریل 2025 میں محصولات کے باعث پیدا ہونے والی شدید مندی جسے لبریشن ڈے کہا گیا تھا کے بعد سب سے بڑی گراوٹ سے دوچار کردیا۔

مزیدپڑھیں:انڈر 19 ایشیا کپ: یو اے ای کا پاکستان کو جیت کیلیے 225 رنز کا ہدف

کے سی ایم ٹریڈ کے چیف مارکیٹ تجزیہ کار ٹم واٹرر نے کہا کہ موجودہ حالات میں جب سرمایہ کار خطرات سے بچنے کی کوشش کررہے ہیں، ہم دیکھ رہے ہیں کہ سونے میں کی گئی سرمایہ کاری کو فروخت کیا جارہا ہے تاکہ نقد رقم حاصل کی جا سکے اور دیگر شعبوں میں مارجن کالز کی ادائیگی کی جاسکے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ ہم نے اس صورتحال کو عارضی طور پر سونے کی روایتی محفوظ سرمایہ کاری کی حیثیت پر غالب آتے دیکھا ہو۔

سی ایم ای کے فیڈ واچ ٹول کے مطابق اس وقت سرمایہ کار دسمبر میں فیڈ کی جانب سے شرحِ سود میں اضافے کے امکان کو 68 فیصد قرار دے رہے ہیں جبکہ گزشتہ ماہ یہ امکان تقریباً یقینی سمجھا جارہا تھا۔

جمعرات کو فیڈ کے دو عہدیداروں نے ہدف سے زیادہ افراطِ زر پر قابو پانے کے لیے شرحِ سود میں بتدریج اور محتاط اضافے کی حمایت کی۔

دوسری جانب گولڈمین سیکس نے جمعرات کو 2026 کے اختتام تک سونے کی قیمت سے متعلق اپنی پیش گوئی 4,650 ڈالر فی اونس سے کم کرکے 4,150 ڈالر فی اونس کر دی۔ بینک نے اس کمی کی وجہ فیڈرل ریزرو کا نسبتاً سخت مالیاتی پالیسی کا مؤقف قرار دیا۔

دیگر قیمتی دھاتوں میں اسپاٹ چاندی کی قیمت 0.5 فیصد کمی کے بعد 51.51 ڈالر فی اونس پر آگئی جبکہ پلاٹینم کی قیمت 0.3 فیصد کمی کے بعد 1,512.83 ڈالر اور پیلیڈیم کی قیمت 1.1 فیصد کمی کے بعد 1,020.10 ڈالر فی اونس ہوگئی۔

تاہم ان تینوں قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں ہفتہ وار بنیادوں پر اضافے کا رجحان برقرار رہنے کا امکان تھا۔