نیشنل بینک آف پاکستان (این بی پی) کے شیئر ہولڈرز نے بینک کے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر عمران سرور کے لیے 95 لاکھ روپے ماہانہ بنیادی تنخواہ سمیت کروڑوں روپے پر مشتمل پرکشش پیکج اور شاہانہ مراعات کی رسمی منظوری دے دی ہے۔
کراچی:ملک کے سب سے بڑے اور اہم ترین سرکاری مالیاتی ادارے، نیشنل بینک آف پاکستان (این بی پی) نے اپنے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) عمران سرور کی ماہانہ تنخواہ، سالانہ بونس، الاؤنسز اور دیگر گرانقدر مراعات کا تفصیلی خاکہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں جمع کروائی گئی سرکاری دستاویزات میں جاری کر دیا ہے۔ شیئر ہولڈرز کے غیر معمولی اجلاس میں منظور کی گئی ان تفصیلات کے تحت بینک سربراہ کو کمرشل بینکنگ انڈسٹری کے اعلیٰ ترین معیارات کے مطابق تاریخی مالیاتی پیکیج اور مراعات کا فریم ورک فراہم کیا جا رہا ہے۔
خبر رساں ادارے کے مطابق ریگولیٹری تقاضوں اور آئینی و انتظامی قوانین کو پورا کرتے ہوئے جاری کردہ افشائے کے تحت صدر این بی پی کو 95 لاکھ روپے ماہانہ گراس بنیادی تنخواہ ادا کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی، بینک کے طے شدہ ضوابط کے تحت انتہائی رعایتی شرح پر ہاؤس لون (مکان کی خرید یا تعمیر کے لیے قرضہ) حاصل کرنے کی سہولت کے متبادل کے طور پر انہیں 10 لاکھ روپے ماہانہ ہاؤس رینٹ الاؤنس الگ سے دیا جائے گا۔ اس طرح ان کی بنیادی اور مقررہ (Fixed) ماہانہ نقد رقم 1 کروڑ 5 لاکھ روپے (10.5 ملین روپے) بنتی ہے۔ علاوہ ازیں، ادارے کی سالانہ مالیاتی کارکردگی، نفع بخش اہداف کی تکمیل، اثاثوں کی نمو اور ڈائریکٹرز بورڈ کی جانب سے مقرر کردہ کی پی آئیز (KPIs) کی بنیاد پر انہیں سالانہ بنیادوں پر الگ سے پرفارمنس بونس بھی فراہم کیا جائے گا جو مالی سال کے اختتام پر کروڑوں روپے تک جا پہنچتا ہے۔
سفری اور گاڑیوں کی سہولت کے معاملے پر شیئر ہولڈرز کی منظور شدہ دستاویزات کے مطابق صدر این بی پی کو 2 پرتعیش کاریں بمعہ ڈرائیورز اور پیٹرولیم الاؤنس کی مکمل سہولت دی جائے گی۔ دستاویز میں واضح کیا گیا ہے کہ ان دونوں گاڑیوں کی دیکھ بھال، انشورنس، ٹریکر اور ایندھن کے تمام تر اخراجات بینک خود اپنے کھاتے سے برداشت کرے گا، جبکہ 45,000 روپے فی کس ماہانہ کے حساب سے 2 خصوصی ڈرائیورز کی تنخواہیں بھی براہ راست بینک کی جانب سے ادا کی جائیں گی۔ مزید برآں، اپنے تین سالہ انتظامی معاہدے کی مدت (Tenure) کے اختتام پر انہیں صرف 10 فیصد ریزیڈوئل ویلیو (Residual Value) یعنی اصل مارکیٹ قیمت کے محض دسویں حصے پر گاڑی خود ذاتی ملکیت میں خریدنے کا خصوصی قانونی حق اور آپشن بھی حاصل ہو گا۔
سیکیورٹی اور گھریلو انتظامات کے حوالے سے بھی انتہائی سخت اور مکمل فول پروف انتظامات کا خاکہ پیش کیا گیا ہے۔ صدر نیشنل بینک کی سرکاری یا ذاتی رہائش گاہ پر 24 گھنٹے سیکیورٹی فراہم کرنے کی خاطر 4 مسلح سیکیورٹی گارڈز کی ہمہ وقت شفٹوں میں تعیناتی منظور کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی رہائش گاہ کے روزمرہ نظم و نسق کو بہتر انداز میں چلانے کے لیے گھریلو ملازمین کی مد میں 1 لاکھ 5 ہزار روپے سے لے کر 1 لاکھ 50 ہزار روپے تک ماہانہ الائونس مختص کیا گیا ہے۔ یہی نہیں بلکہ ان کی رہائش گاہ پر استعمال ہونے والی بجلی، گیس، اور پانی کے جملہ یوٹیلٹی بلوں کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ 2 آفیشل ڈائریکٹ لینڈ لائن فونز اور 2 اسمارٹ موبائل فونز کے تمام ماہانہ کنکشن، کالز و تیز رفتار ڈیٹا بلز بھی بینک کے اکاؤنٹ سے ادا ہوں گے۔
علاوہ ازیں، بجلی کے تعطل اور لوڈشیڈنگ کی صورت میں بلا تعطل فراہمیِ آب و برق کو یقینی بنانے کے لیے صدر کی رہائش گاہ پر 15 لاکھ روپے تک کی مالیاتی مالیت کا جدید ہیوی ڈیوٹی پاور جنریٹر نصب کیا جائے گا، جس کی ایندھن، تیل اور سروسنگ کے جملہ اخراجات کا بار بھی بینک ہی اٹھائے گا۔
طبی اور لائف انشورنس کی کوریج کے شعبے میں این بی پی کے سربراہ اور ان کے تمام زیرِ کفالت اہل خانہ (اہلیہ اور بچوں) کے لیے پاکستان بھر کے تمام ممتاز اور اعلیٰ ترین معیار کے نجی و سرکاری ہسپتالوں میں مکمل مفت طبی علاج، جراحی، ادویات اور ڈینٹل (دندان سازی) کا احاطہ شامل کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ 3 کروڑ روپے کی مجموعی رقم پر مشتمل ایک پرسنل ایکسیڈنٹ اینڈ لائف انشورنس کور بھی اس پیکیج کا حصہ ہے، جس کے ماہانہ یا سالانہ پریمیم کی 50 فیصد رقم بینک خود ادا کرے گا جبکہ بقایا 50 فیصد پریمیم کی رقم صدر کی تنخواہ سے ماہانہ کٹوتی کے طور پر وضع کی جائے گی۔
کارپوریٹ نیٹ ورکنگ، اہم گاہکوں سے روابط اور بزنس تعلقات کے استحکام کے لیے صدر این بی پی کو ملک کے دو ممتاز ترین اور باوقار نجی کلبوں (مثلاً کراچی جیم خانہ، اسلام آباد کلب، یا گالف کلب) کی مکمل ابتدائی ممبرشپ فیس اور ماہانہ ریگولر سبسکرپشن فیس بینک کی جانب سے ادا کر کے دی جائے گی۔ ملک کے اندر یا بیرونی ممالک کے سرکاری و تجارتی اسفار کے دوران انہیں ہمیشہ بین الاقوامی سطح کی بزنس کلاس ایئر ٹکٹنگ، فائیو اسٹار ہوٹلنگ، سفری سہولیات اور سفر سے متعلق یومیہ الائونسز (Daily Allowance) کی تمام تر سہولیات میسر ہوں گی۔
بنکاری ڈھانچے کی حساسیت کے پیش نظر، یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ نیشنل بینک آف پاکستان محض ایک عام تجارتی بینک نہیں ہے بلکہ یہ ریاست پاکستان کے مرکزی بینک یعنی اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ایجنٹ کے طور پر بھی کام کرتا ہے۔ ملک بھر میں پھیلی ہزاروں شاخوں کے ذریعے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں، پینشن کی ادائیگی، اور فیڈرل و پروونشل ٹیکسز کی وصولی کا تمام تر نظم و نسق اسی ادارے کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ اسی لیے اس حجم کے مالیاتی ادارے کو عالمی معاشی دباؤ، قرضوں کے تناسب، اور نان پرفارمنگ لونز (NPLs) کے مسائل سے نکالنے کے لیے ایک تجربہ کار اور بین الاقوامی صلاحیتوں کے حامل بینکر کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار اور تجارتی پالیسیوں پر نظر رکھنے والے مالیاتی و اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ایک سرکاری و قومی ادارے کے سربراہ کے لیے اس قدر پرکشش پیکیج اور شاہانہ مراعات پر بعض سیاسی و عوامی حلقوں کی جانب سے سوالات اٹھائے جاتے ہیں، تاہم تجارتی اور بینکنگ سیکٹر کے ماہرین کا موقف ہے کہ نیشنل بینک آف پاکستان جیسے اربوں ڈالر کا مالیاتی اثاثہ رکھنے والے ادارے کو نجی تجارتی اور بیرونی غیر ملکی بینکوں کے سخت مقابلے میں منافع بخش بنانے کے لیے ٹاپ لیول کی مارکیٹ سے بہترین ٹیلنٹ کو متوجہ کرنا ضروری ہوتا ہے۔ عالمی اور ملکی بینکاری انڈسٹری کے مقابلے میں این بی پی کا پیکیج انڈسٹری بینچ مارک کے عین مطابق رکھا گیا ہے تاکہ بینک کی کاروباری حکمت عملی اور آپریشنل توازن کو کامیابی کے ساتھ قائم رکھا جا سکے۔













ہفتہ 7 نومبر 2026 