> نئی ویکسین شنگرکس (Shingrix) کے استعمال سے دل کے دورے، ہارٹ فیلئر اور فالج کے خطرات میں نمایاں کمی
نیویارک/آکسفورڈ: دنیا بھر میں بڑی عمر کے افراد کے لیے ایک انتہائی اہم طبی پیشرفت سامنے آئی ہے۔ ایک جدید بین الاقوامی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ جلدی بیماری شنگلز (Shingles) سے بچاؤ کے لیے استعمال ہونے والی جدید ترین ویکسین شنگرکس (Shingrix) نہ صرف جلد پر ابھرنے والے دردناک دانوں اور سوزش سے تحفظ فراہم کرتی ہے، بلکہ یہ سن رسیدہ افراد میں دل کی مختلف بیماریوں، ہارٹ اٹیک اور فالج (Stroke) کا خطرہ بھی نمایاں طور پر کم کر سکتی ہے۔
تحقیق کی تفصیلات اور 72 ہزار افراد پر مطالعہ:
آکسفورڈ یونیورسٹی کے شعبہ سائیکاٹری کے نامور ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر میکسم ٹاکیٹ (Maxime Taquet) اور ان کی تحقیقی ٹیم نے 60 سال یا اس سے زائد عمر کے 72 ہزار 920 افراد کے جامع طبی ڈیٹا کا تفصیلی جائزہ لیا۔
محققین نے پرانی لائیو ویکسین (Zostavax) اور سال 2017 میں متعارف کروائی گئی جدید ریکمبیننٹ ویکسین شنگرکس (Shingrix) کے اثرات کا موازنہ کیا۔ نتائج سے یہ بات سامنے آئی کہ ویکسینیشن کے سات سال بعد شنگرکس لگوانے والے افراد کے دل کی مجموعی صحت پر حیران کن مثبت اثرات مرتب ہوئے:
ہارٹ اٹیک (Ischemic Heart Disease): پرانی ویکسین کے مقابلے میں شنگرکس لگوانے والوں میں اس کا خطرہ اوسطاً 10 فیصد کم ہو گیا۔
ہارٹ فیلئر (Heart Failure): دل کی کارکردگی متاثر ہونے یا ہارٹ فیلئر کا امکان 12 فیصد تک گھٹ گیا۔
مجموعی کارڈیو ویسکولر خطرات: فالج، ہارٹ اٹیک اور ہارٹ فیلئر کے مجموعی خطرے میں 9 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
سیڈرز-سائنائی میڈیکل سینٹر کے ماہرِ امراضِ قلب ڈاکٹر آرش بیریلیانی کے مطابق، اگرچہ 1 فیصد کا مجموعی فرق بظاہر چھوٹا لگتا ہے، لیکن اگر صرف امریکہ میں خطرے کا شکار 5 کروڑ کی آبادی کا حساب لگایا جائے تو یہ 1 فیصد کمی بھی عالمی سطح پر لاکھوں انسانوں کو فالج اور دل کے دورے سے بچانے کے مترادف ہے۔
ویکسین دل کی شریانوں کو کیسے محفوظ رکھتی ہے؟
اگرچہ اس مشاہداتی مطالعے میں تکنیکی وجہ کی براہِ راست تحقیقات نہیں کی گئیں، تاہم نامور ماہرینِ امراضِ قلب نے اس کے پیچھے دو اہم طبی نظریات پیش کیے ہیں:
1. سوزش میں کمی (Anti-inflammatory Action): فارماسیوٹیکل کمپنی GSK کی تیار کردہ اس شنگرکس ویکسین میں AS01B نامی ایک خصوصی بوسٹر جزو شامل ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ جزو جسم کے امیون رسپانس کو اعتدال میں لا کر سوزش کا باعث بننے والے مارکر (IL-6) کو کم کرتا ہے، جس سے دل کی شریانوں کے اندر پرانی سوزش کم ہوتی ہے اور خون کا بہاؤ بہتر رہتا ہے۔
2. خون کے لوتھڑوں (Clots) کا تدارک: شنگلز کا وائرس جب انسان کو متاثر کرتا ہے تو جسم میں پروتھرومبوٹک (Prothrombotic) کیفیات پیدا ہوتی ہیں، جس سے شریانوں میں خون جمنے لگتا ہے۔ ویکسین شنگلز کی انفیکشن کو روک کر اس عمل کا خاتمہ کر دیتی ہے، جس سے شریانوں میں بلاکیج نہیں ہوتی۔
ڈیمینشیا کے خطرے میں کمی اور اضافی طبی فوائد:
تحقیق کے سربراہ ڈاکٹر میکسم ٹاکیٹ نے یہ انکشاف بھی کیا کہ اس جدید شنگرکس ویکسین کے فوائد صرف دل تک محدود نہیں ہیں۔ حالیہ تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ یہ ویکسین معمر افراد میں بھولنے کی بیماری ڈیمینشیا (Dementia) کے خطرے کو کم کرنے میں بھی مدددگار ثابت ہو رہی ہے، جس سے اس ویکسین کی ملٹی فنکشنل اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
کارڈیالوجسٹس کا مشورہ اور احتیاطی تدابیر:
تحقیق میں شامل نہ ہونے والے آزاد ماہرینِ امراضِ قلب نے ان نتائج کو سراہتے ہوئے محتاط رہنے کی ہدایت بھی کی ہے۔ ڈاکٹر سرِیشا وڈالی کے مطابق، یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، لہٰذا لوگ شنگرکس ویکسین کو دل کی بیماری کا واحد علاج یا حل نہ سمجھیں۔
مزید پڑھیں: انسٹاگرام کا تخلیق کاروں کیلئے بڑا تحفہ: میک او ایس ایڈٹس ایپ متعارف
امریکی ادارے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (CDC) کے مطابق 50 سال سے زائد عمر کے تمام افراد کو شنگرکس کی دو خوراکیں (2 سے 6 ماہ کے وقفے سے) لازمی لگوانی چاہئیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل مقصد شنگلز سے بچاؤ ہی ہونا چاہیے، جبکہ دل اور دماغ کی حفاظت کو اس کا ایک اضافی اور شاندار فائدہ (Added Bonus) سمجھا جائے۔













اتوار 8 نومبر 2026 