ہانگ کانگ: چین کی ٹیکنالوجی جائنٹ ٹینسنٹ ہولڈنگز (Tencent Holdings) کے چیف اے آئی سائنٹسٹ اور نامور ریسرچ لیبارٹری اوپن اے آئی (OpenAI) کے سابق سرکردہ محقق ونسز یاؤ شنیو (Vinces Yao Shunyu) .نے ایک چونکا دینے والے انکشاف میں خبردار کیا.
ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس ماڈلز اب اس حد تک طاقتور ہو رہے ہیں کہ وہ جلد ہی انسانی بائیولوجی کے پیچیدہ ترین رازوں کو حل کرنے پر مکمل دسترس حاصل کر لیں گے۔ تاہم، اس پیشرفت کے جہاں طبی میدان میں دور رس نتائج سامنے آئیں گے، وہیں یہ ٹیکنالوجی عالمی سلامتی کے لیے ایک نئی اور خوفناک تباہی کا پیش خیمہ بھی بن سکتی ہے۔
ہانگ کانگ اکیڈمی آف سائنسز اور فیوچر سائنس پرائز کے زیراہتمام منعقدہ ایک سائنسی سمپوزیم میں شمولیت کے دوران ونسز یاؤ شنیو نے اپنے نایاب اور اہم خطاب میں فرنٹیر اے آئی سسٹمز کی زبردست رفتار پر روشنی ڈالی۔انہوں نے واضح الفاظ میں خبردار کیا کہ “مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی سائبر صلاحیتیں اور جلد ہی ان کی بائیولوجیکل پروسیسنگ کی صلاحیتیں ایک ایسی انتہائی نازک حد (Threshold) کو چھونے والی ہیں جہاں سے ان کا استعمال کر کے حقیقی دنیا میں ناقابلِ تلافی انسانی و مالی نقصان پہنچانا عملی طور پر ممکن ہو جائے گا۔”
ٹیکنالوجی ماہرین اور سائنسدانوں کے مطابق اے آئی سسٹمز کو میڈیسن اور بائیولوجی پر لاگو کرنے سے کینسر، جینیاتی بیماریوں اور وائرسز کی ادویات کی دریافت جو پہلے دہائیوں پر محیط ہوتی تھی، اب دنوں اور مہینوں میں ممکن ہو سکے گی۔
لیکن اس کا دوسرا پہلو انتہائی تاریک اور دہلا دینے والا ہے۔ بین الاقوامی سیکیورٹی اور ڈیفنس ماہرین نے تشویش کا اظہار کیا ہے کہ اگر ان ماڈلز کا الگورتھم یا سورس کوڈاوپن ویٹ (Open-weight) سافٹ ویئر کے طور پر عوامی سطح پر ریلیز ہو گیا، تو گمنام ہیکرز، دہشت گرد تنظیمیں یا شرپسند عناصر اسے مہلک بائیولوجیکل ہتھیار (Bioweapons)، زہریلے کیمیکلز یا کسی مصنوعی عالمی وبا (Pandemic) کا وائرس ڈیزائن کرنے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں، جسے روکنا کسی بھی ملک کے سیکیورٹی اداروں کے لیے ممکن نہیں رہے گا۔
ونسز یاؤ شنیو کا شمار دنیا کے ان گنے چنے ماہرین میں ہوتا ہے جنہوں نے اوپن اے آئی کے ساتھ جدید ترین ماڈلز کی تحقیق میں کام کیا ہے اور اب وہ چینی ٹیکنالوجی انڈسٹری کی قیادت کر رہے ہیں۔ ان کی جانب سے اس سنسنی خیز انتباہ کے بعد عالمی سطح پر سپر پاورز اور ٹیکنالوجی ریگولیٹرز پر شدید دباؤ آ گیا ہے کہ وہ بائیولوجیکل سائنسز سے جڑے اے آئی پروٹوکولز اور تحقیقی ڈیٹا کی کھلے عام دستیابی پر فوری طور پر عالمی پابندیاں اور کڑے قوانین نافذ کریں۔













اتوار 8 نومبر 2026 