ایران کا امریکا سے براہِ راست مذاکرات سے انکار، یورینیم افزودگی بند نہیں کی جا سکتی، عباس عراقچی

Calender Icon ہفتہ 1 نومبر 2025

تہران : ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ تہران کو امریکا کے ساتھ اپنے ایٹمی یا میزائل پروگرام پر براہِ راست مذاکرات کی کوئی خواہش نہیں، اور اسلامی جمہوریہ ایران یورینیم افزودگی کے حق سے دستبردار نہیں ہوگی۔

عباس عراقچی نے غیر ملکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں کہا کہ: ’’ہم اپنے میزائل پروگرام پر کبھی مذاکرات نہیں کریں گے، اور کوئی باشعور ملک خود کو غیر مسلح نہیں کرتا۔ ہم یورینیم افزودگی بند نہیں کر سکتے، کیونکہ جو کام جنگ سے حاصل نہیں کیا جا سکا، وہ سیاست سے بھی حاصل نہیں ہوگا۔ ہمیں واشنگٹن کے ساتھ براہِ راست بات چیت کی خواہش نہیں، البتہ بالواسطہ مذاکرات کے لیے اتفاقِ رائے ممکن ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ ایران اپنے ایٹمی پروگرام کے بارے میں پیدا ہونے والے خدشات دور کرنے کے لیے مذاکرات پر تیار ہے، اور اسے یقین ہے کہ اس کا پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

ایک منصفانہ معاہدہ ممکن ہے، لیکن واشنگٹن نے ایسی شرائط پیش کی ہیں جو ناقابلِ قبول اور ناقابلِ عمل ہیں۔

عراقچی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ جون میں اسرائیل اور امریکا کے حملوں کے باوجود ایران کی جوہری تنصیبات کی ٹیکنالوجی محفوظ ہے۔

حملوں کے دوران بعض جوہری مواد ملبے تلے دب گیا، لیکن کہیں منتقل نہیں ہوا۔ ٹیکنالوجی اب بھی ہمارے پاس موجود ہے، اگرچہ نقصان ضرور ہوا ہے۔

ایرانی وزیرِ خارجہ نے خبردار کیا کہ تہران ہر ممکن صورتِ حال کے لیے تیار ہے اور اسے اسرائیل کی جانب سے کسی بھی جارحانہ اقدام کی توقع ہے۔