اسلام آباد : وزارتِ اطلاعات و نشریات نے افغان طالبان رجیم کے ترجمان کے حالیہ بیان کو گمراہ کن اور حقائق کے منافی قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ ترجمان وزارتِ اطلاعات نے کہا کہ استنبول میں ہونے والے مذاکرات سے متعلق حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا، جبکہ پاکستان کا مؤقف واضح، مستقل اور ریکارڈ پر موجود ہے۔
پاکستان نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ دہشت گردوں کی حوالگی صرف سرحدی انٹری پوائنٹس کے ذریعے ممکن ہے، اور اس حوالے سے کسی بھی متضاد دعوے کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیا گیا ہے۔
وزارتِ اطلاعات نے کہا کہ افغانستان کی جانب سے جھوٹے بیانات اور دعوے زمینی حقائق کے برعکس ہیں، جو دو طرفہ اعتماد اور علاقائی امن کے لیے نقصان دہ ہیں۔
پاکستان کے خلاف غلط بیانی قابلِ قبول نہیں۔ ہمارے مؤقف کو غلط انداز میں پیش کیا جا رہا ہے، جو حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتا۔
افغان فریق کے دعوے کے فوراً بعد پاکستان نے دہشت گردوں کی تحویل کی پیشکش کی تھی، تاکہ خطے میں امن و استحکام قائم رکھنے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جا سکیں۔
وزارتِ اطلاعات نے ایک مرتبہ پھر واضح کیا کہ پاکستان نے ہمیشہ افغان سرزمین سے سرگرم دہشت گرد گروہوں کی گرفتاری اور کارروائی کا مطالبہ کیا ہے، اور اسی اصولی مؤقف پر قائم رہے گا۔












ہفتہ 1 نومبر 2025 