امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بڑا یوٹرن، میئر نیویارک ظہران ممدانی کی مدد کرنے کو تیار

Calender Icon جمعرات 6 نومبر 2025

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ نیویارک کے نومنتخب میئر ظہران ممدانی کی مدد کے لیے تیار ہیں، تاہم انہوں نے خبردار کیا ہے کہ کامیابی کے لیے ممدانی کو ’واشنگٹن کا احترام‘ کرنا ہوگا۔

بدھ کے روز صدر ٹرمپ نے یہ تبصرہ اس وقت کیا جب ظہران ممدانی نے نیویارک کے پہلے مسلم اور پہلے جنوبی ایشیائی نژاد میئر کے طور پر اپنی تاریخی کامیابی کے بعد اپنی عبوری ٹیم کا اعلان کیا۔

صدر ٹرمپ نے نومنتخب میئر ظہران ممدانی کی انتخابی رات کی تقریر پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے، جس میں ممدانی نے کہا تھا کہ وہ صدر ٹرمپ کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہوں گے، ان کے بیان کو ’خطرناک‘ قرار دیا۔


میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ میئر نیویارک کو واشنگٹن کا کچھ احترام دکھانا ہوگا، ورنہ وہ کامیاب نہیں ہو سکتے۔

فوکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ میئر نیویارک کی کامیابی کے خواہاں ہیں۔ ’میں چاہتا ہوں کہ وہ کامیاب ہوں، میں چاہتا ہوں کہ شہر کامیاب ہو۔‘

تاہم ان فوراً وضاحت کی کہ ان کا مطلب ’نیویارک سٹی‘ کی کامیابی ہے، ممدانی کی نہیں۔

اسی روز میامی میں امریکن بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ان کی انتظامیہ نئے میئر کی ’مدد‘ کرے گی، حالانکہ انہوں نے انہیں ’کمیونسٹ‘ بھی قرار دیا۔

’کمیونسٹوں، مارکسسٹوں اور گلوبلسٹوں کو موقع ملا، مگر وہ صرف تباہی لائے۔ اب دیکھتے ہیں کہ ایک کمیونسٹ نیویارک میں کیا کرتا ہے۔ ہم دیکھیں گے یہ کیسے چلتا ہے۔‘

صدر ٹرمپ نے طنزیہ انداز میں کہا کہ وہ ان کی تھوڑی مدد کریں گے، ہم چاہتے ہیں نیویارک کامیاب ہو۔

یاد رہے کہ انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ نے ممدانی کو ’کمیونسٹ دیوانہ‘ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ اگر وہ جیت گئے تو نیویارک کی وفاقی فنڈنگ روک دی جائے گی۔

ظہران ممدانی، جو مفت نرسری تعلیم، مفت بس سروس اور سرکاری گروسری اسٹورز جیسے منصوبے تجویز کرتے ہیں، خود کو ’ڈیموکریٹک سوشلسٹ‘ قرار دیتے ہیں، نہ کہ کمیونسٹ۔

ان کی کامیابی کو قومی سطح پر بھی اہم سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ یہ ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر معتدل اور ترقی پسند دھڑوں کے درمیان کشمکش کے تناظر میں ایک علامتی فتح سمجھی جا رہی ہے۔

اپنی فتح کی رات ممدانی نے صدر ٹرمپ کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ آواز اونچی کر لو، ہم آ رہے ہیں۔

بدھ کے روز اپنی ترجیحات پر روشنی ڈالتے ہوئے ممدانی نے کہا کہ وہ صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کی مخالفت جاری رکھیں گے، لیکن بات چیت کے دروازے بند نہیں کریں گے۔

’میں صدر ٹرمپ کے بارے میں بات کرتے ہوئے الفاظ میں نرمی نہیں برتوں گا، مگر ہمیشہ مکالمے کے لیے دروازہ کھلا رکھوں گا۔‘