این ڈی اے رہنماؤں پر پاکستانی سیاسی جماعت کو رقوم کی مبینہ منتقلی کا الزام

Calender Icon جمعہ 21 نومبر 2025

نئی دہلی(نیوز ڈیسک) بھارت کے سیاسی حلقوں میں ہلچل اس وقت شدید ہو گئی جب بھارتی نیوز چینل نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ این ڈی اے کی اعلیٰ قیادت کے چند اہم رہنماؤں نے مبینہ طور پر رقم بھارت کی کسی تنظیم یا مقامی اتحادی کو نہیں بلکہ پاکستان کی ایک سیاسی جماعت (پاکستان تحریک انصاف )کورقم منتقل کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس فہرست میں نتیش کمار، سمراٹ چودھری، وِجے کمار سنہا اور اُپیندر کشواہا کے نام شامل ہیں۔

میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ مبینہ طور پر کروڑوں روپے پاکستان کی ایک سیاسی پارٹی(پی ٹی آئی ) کو بھیجے گئے، اور ذرائع کے مطابق اس رقم کی منتقلی ایک سوچا سمجھا سیاسی اقدام تھی، جس کا مقصد پاکستانی فوج کے اندر بے چینی پیدا کرنا اور خطے کے حالات کو اس انداز میں موڑنا تھا کہ ممکنہ ہندوستان۔پاکستان کشیدگی میں وزیر اعظم نریندر مودی کو سیاسی فائدہ حاصل ہو سکے۔

سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ سے منسلک ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ عمل کسی بھی طور معمول کی سیاسی سرگرمی یا سفارتی رابطہ نہیں بلکہ ایک ایسی کارروائی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جسے دہائی کی سب سے بڑی سیاسی سازش قرار دیا جا رہا ہے۔

ادھر را، آئی بی اور ای ڈی کی مشترکہ تفتیش بھی جاری ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مرکزی ایجنسیاں ڈیجیٹل ٹریل، انکرپٹڈ چیٹس، دبئی سے ممکنہ روابط اور لندن میں موجود مختلف مواصلاتی چینلز کا جائزہ لے رہی ہیں۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایجنسیاں ابتدائی گرفتاری میمو بھی تیار کر رہی ہیں، اور نئی دہلی کے سیاسی حلقوں میں غیر معمولی بے چینی پائی جاتی ہے۔

سیاسی مبصرین اس پورے معاملے پر کئی بنیادی سوالات اٹھا رہے ہیں کہ کیا واقعی یہ ایک منظم سازش تھی، کیا کسی غیر ملکی فوجی ادارے کے اندر مداخلت کا منصوبہ بنایا گیا، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ نئی دہلی میں اس معاملے سے کون واقف تھا۔

تحقیقات کے مزید پھیلنے کے ساتھ سیاسی درجہ حرارت تیزی سے بڑھ رہا ہے، اور آئندہ دنوں میں مزید انکشافات سامنے آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔