نئی دہلی(نیوز ڈیسک)بھارت میں آر ایس ایس کے ہندوتوا نظریے کے زیرِ اثر اقلیتوں کے خلاف تشدد کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ تازہ واقعے میں اڑیسہ میں انتہا پسند ہندو تنظیم بجرنگ دل کے کارکنوں نے ایک عیسائی پادری کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا، جس نے مودی حکومت کے دور میں اقلیتوں کے تحفظ پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بھارتی جریدے دی نیو انڈین ایکسپریس کے مطابق، انتہا پسندوں کے ایک جتھے نے پادری کے گھر پر دھاوا بولا، جہاں وہ اپنے اہلِ خانہ اور دیگر افراد کے ساتھ دعائیہ اجتماع میں شریک تھے۔ حملہ آوروں نے پادری کو تشدد کا نشانہ بنایا، زبردستی گائے کی غلاظت کھلائی اور ان سے جئے شری رام کے نعرے لگوائے۔
رپورٹ کے مطابق جنونی ہجوم نے پادری کو لاٹھیوں سے بری طرح مارا پیٹا، ان کے چہرے پر سرخ سندور مل دیا اور انہیں جوتوں کا ہار پہنا کر گاؤں میں گھمایا۔ متاثرہ خاندان کی جانب سے مدد کے لیے بار بار درخواست کے باوجود پولیس موقع پر نہ پہنچی، جس پر مقامی سطح پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہندوتوا کے نام پر اقلیتوں پر بڑھتا ہوا تشدد بھارتی معاشرے میں سماجی انتشار کو مزید گہرا کر رہا ہے اور یہ رجحان ملک میں بدامنی اور بغاوت کے خدشات کو ہوا دے رہا ہے۔ ان کے مطابق مودی حکومت اپنے اقتدار کو دوام دینے کے لیے آر ایس ایس کے اشتعال انگیز ایجنڈے پر عمل پیرا دکھائی دیتی ہے۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کمیٹی بھی بھارت میں اقلیتوں کے تحفظ کے لیے مؤثر قانون سازی پر زور دیتی رہی ہے، تاہم ناقدین کے مطابق بھارتی حکومت اس حوالے سے عملی اقدامات کرنے میں ناکام نظر آتی ہے۔












جمعرات 22 جنوری 2026 