اسلام آباد(نیوز ڈیسک) ہیلتھ سروسز اکیڈمی سے متعلق کارروائی اور کام کی جگہ پر خواتین کو ہراسانی سے تحفظ کے وفاقی محتسب کے فیصلے کے بارے میں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی افواہوں کے حوالے سے صدرِ پاکستان کے ترجمان نے درج ذیل وضاحت جاری کی ہے۔
وفاقی محتسب کے حکم کے خلاف قانون کے مطابق ایک درخواستِ نظرثانی ایوانِ صدر کو موصول ہوئی ہے۔ وفاقی محتسب ادارہ اصلاحات ایکٹ 2013 کی دفعہ 14(2) کے تحت ایسی درخواست دائر ہونے پر متعلقہ حکم پر عمل درآمد ساٹھ دن کے لیے خودکار طور پر روک دیا جاتا ہے۔ یہ کارروائی قانون کے تقاضوں کے تحت عمل میں لائی جاتی ہے اور اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ متعلقہ فرد کو الزامات سے بری قرار دے دیا گیا ہے یا حتمی طور پر بحال کر دیا گیا ہے۔
مکمل سرکاری ریکارڈ متعلقہ فورم سے طلب کر لیا گیا ہے تاکہ اسے دیکھنے کے بعد معاملہ مجاز اتھارٹی کے سامنے قانون کے مطابق فیصلے کے لیے پیش کیا جا سکے۔
یہ دعویٰ درست نہیں کہ ملزم کو صدر کی جانب سے بری قرار دے دیا گیا ہے یا انہیں حتمی ریلیف دے دیا گیا ہے۔ معاملہ زیرِ جائزہ ہے اور اس کا فیصلہ سختی سے قانون کے مطابق کیا جائے گا۔ صدرِ پاکستان آئین اور ملکی قوانین کے مطابق ہی اقدامات کرنے کے پابند ہیں۔
عوام اور میڈیا سے گزارش ہے کہ اس معاملے میں قیاس آرائی سے گریز کریں۔












منگل 17 فروری 2026 