پاکستان میں دہشتگردی پھیلانےکاگھناؤنا منصوبہ،افغان طالبان رجیم کامکروہ چہرہ بےنقاب

Calender Icon ہفتہ 4 اپریل 2026

کابل (نیوز ڈیسک) افغانستان میں سیکیورٹی صورتحال سے متعلق نئی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ملک میں شدت پسند گروہوں کی سرگرمیوں اور ان کی مالی معاونت کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کے خطے کے امن پر اثرات مرتب ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

افغان میڈیا ادارے آماج نیوز کے مطابق شمالی افغانستان میں مبینہ طور پر شدت پسند عناصر کے لیے فنڈز جمع کرنے کی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں، اور اس حوالے سے ایک منظم مہم جاری ہے جو مختلف علاقوں تک پھیل چکی ہے۔

رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مقامی آبادی پر مالی تعاون کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے، جبکہ بعض علاقوں میں مقامی عمائدین کو بھی اس عمل میں شامل کرنے کی اطلاعات ہیں۔ اس صورتحال نے پہلے سے موجود معاشی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

ماہرین کے مطابق افغانستان میں جاری معاشی بحران اور سیکیورٹی چیلنجز ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، اور اگر مالی وسائل کا استعمال شفاف نہ ہو تو اس کے اثرات نہ صرف مقامی سطح پر بلکہ پورے خطے میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسی رپورٹس کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے، تاہم اگر یہ خدشات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ خطے کے امن و استحکام کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتے ہیں۔