ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے کسی جوہری پاور پلانٹ سے تابکاری خارج ہوئی تو اس کے اثرات نہ صرف ایران بلکہ خلیجی ممالک تک پھیل سکتے ہیں، جو انسانی زندگی کے لیے انتہائی تباہ کن ہوں گے۔
سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے عالمی برادری کو یاد دلایا کہ Zaporizhzhia Nuclear Power Plant کے قریب جھڑپوں پر مغربی دنیا نے شدید ردعمل ظاہر کیا تھا، اور سوال اٹھایا کہ اسی نوعیت کے خطرات پر اب خاموشی کیوں اختیار کی جا رہی ہے۔
عباس عراقچی نے دعویٰ کیا کہ امریکا اور اسرائیل ایران کے Bushehr Nuclear Power Plant کو متعدد بار نشانہ بنا چکے ہیں۔ ان کے مطابق اگر اس تنصیب کو نقصان پہنچا اور تابکاری کا اخراج ہوا تو اس کے اثرات ایران کے ساتھ ساتھ خلیج تعاون کونسل (GCC) کے ممالک میں بھی سنگین تباہی کا سبب بن سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی پیٹروکیمیکل تنصیبات پر حملے بھی خطے میں جاری کشیدگی اور بعض طاقتوں کے اصل مقاصد کو ظاہر کرتے ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات نہ صرف علاقائی امن بلکہ عالمی سلامتی کے لیے بھی خطرہ بن سکتے ہیں۔
جوہری تنصیبات پر حملے خطرناک نتائج لا سکتے ہیں، عباس عراقچی کا انتباہ
ہفتہ 4 اپریل 2026












