چند دنوں سے ہمارے میڈیا اور سوشل میڈیا پر یہ بحث شدت اختیار کر رہی ہے کہ متحدہ عرب امارات نے پاکستان کے اسٹیٹ بینک میں رکھوائے گئے تقریباً تین ارب ڈالر واپس لینے کی ڈیڈ لائن دے دی ہے۔ اس معاملے کو بعض حلقوں نے سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی ہے اور یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ شاید پاکستان کی خارجہ پالیسی، خصوصاً خطے کی موجودہ کشیدگی کے تناظر میں، اس کی ایک وجہ ہو سکتی ہے۔ اگرچہ حکومتِ پاکستان نے اس نوعیت کی خبروں کی تردید کی ہے، تاہم اس بحث نے ایک اہم سوال کو ضرور اجاگر کیا ہے:کیا ہمیں اس پر ناراض ہونا چاہیے؟ حقیقت یہ ہے کہ جب پاکستان کو شدید معاشی دباؤ کا سامنا تھا اور ہمارے زرِ مبادلہ کے ذخائر خطرناک حد تک کم ہو چکے تھے، اُس وقت یو اے ای، سعودی عرب اور چین جیسے دوست ممالک نے ہماری مدد کی۔ یہ رقوم بطور ڈپازٹ ہماری سٹیٹ بنک میں رکھوائے گئے اور رول اوور بھی کیے جاتے رہے تاکہ ہم ڈیفالٹ کے خطرے سے بچ سکیں اور اپنی معیشت کو سنبھال سکیں۔ اب اگر یو اے ای کسی بھی وجہ سے خواہ وہ اُن کی مالی مجبوری ہو، پالیسی سے متعلق اختلاف ہو یا پاکستان سے ایران سے متعلق پالیسی پر ناراضگی ہو، وہ اپنی رقم واپس لینا چاہتا ہے، تو اس میں ہمیں غصہ ہونے کی کیا ضرورت ہے۔ پیسہ ادھار لیا تو اب ادھار دینے والا اپنا پیسہ واپس مانگ رہا ہے تو پھر اس پر غصہ کیسا۔ بین الاقوامی تعلقات میں ریاستیں اپنے مفادات کو سامنے رکھ کر فیصلے کرتی ہیں، اور ہمیں یہ بات سمجھنی چاہیے۔ اصل سوال تو یہ ہے کہ ہم کب تک دوسروں کے سہارے اپنی معیشت کو کھڑا رکھنے کی کوشش کرتے رہیں گے؟ کیا ہر چند سال بعد ہمیں اپنے زرِ مبادلہ کے ذخائر بچانے کے لیے دوست ممالک یا عالمی اداروں کے دروازے کھٹکھٹانے پڑیں گے؟ اگر ایسا ہے تو
انصار عباسی
متحدہ عرب امارات پر غصہ کیسا؟؟
پیر 6 اپریل 2026 مزید خبریں
تازہ ترین
چین امریکہ سے 200طیارے خریدے گا
2 گھنٹے قبل












