وزیراعظم محمد شہباز شریف کو آج شام یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا کی جانب سے ٹیلی فون (telephonic conversation)کال موصول ہوئی، جس میں مشرقِ وسطیٰ کی ابتر صورتحال اور علاقائی سلامتی کے امور پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔
گفتگو کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے صدر کوسٹا کو پاکستان کی جانب سے خطے میں امن و امان کے قیام اور کشیدگی کم کرنے کے لیے کی جانے والی حالیہ سفارتی کوششوں اور مختلف عالمی رہنماؤں سے ہونے والے رابطوں کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا۔
یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا نے خطے میں مذاکرات کو فروغ دینے اور استحکام کے لیے پاکستان کے تعمیری اور مثبت کردار کی بھرپور تعریف کی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ یورپی یونین پاکستان کے اس امن دوست عمل کی ہر ممکن حمایت کے لیے تیار ہے اور عالمی برادری کو اس ضمن میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
صدر کوسٹا نے تسلیم کیا کہ موجودہ حالات میں پاکستان کی سفارت کاری خطے کو بڑے بحران سے بچانے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔
دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ دیرپا علاقائی اور عالمی سلامتی کو یقینی بنانے کا واحد راستہ بات چیت اور سفارت کاری ہے، اور طاقت کا استعمال مسائل کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف اور صدر انتونیو کوسٹا نے مستقبل میں بھی ان اہم معاملات پر باہمی رابطے میں رہنے اور مشترکہ کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ سفارتی حلقے یورپی قیادت کے اس رابطے کو وزیراعظم شہباز شریف کو یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا کی جانب سے ٹیلی فون کال موصول ہوئی، جس میں مشرقِ وسطیٰ کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور علاقائی سلامتی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
مزید پڑھیں: دنیا میں ایران کے منجمد اثاثے کتنے اور کہاں ہیں ؟
گفتگو کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے صدر کوسٹا کو خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں سے آگاہ کیا۔ انہوں نے مختلف عالمی رہنماؤں کے ساتھ ہونے والے حالیہ رابطوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کے فروغ کے لیے فعال کردار ادا کر رہا ہے۔
صدر انتونیو کوسٹا نے خطے میں استحکام کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین امن کے فروغ کے لیے پاکستان کی کوششوں کی مکمل حمایت کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں پاکستان کی سفارت کاری کسی بڑے بحران کو ٹالنے میں اہم ثابت ہو سکتی ہے اور عالمی برادری کو بھی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
دونوں رہنماؤں نے اس امر پر اتفاق کیا کہ پائیدار امن اور عالمی سلامتی کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری ہی واحد مؤثر راستہ ہیں، جبکہ طاقت کا استعمال مسائل کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور صدر انتونیو کوسٹا نے مستقبل میں بھی باہمی رابطے برقرار رکھنے اور مشترکہ سفارتی کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
سفارتی حلقوں کے مطابق یہ رابطہ پاکستان کے بڑھتے ہوئے عالمی کردار اور امن کے لیے اس کی کوششوں کے اعتراف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔












پیر 20 اپریل 2026 