قابض طالبان رجیم کی جابرانہ پالیسیوں اورغیرقانونی اقدامات کےباعث عوامی مزاحمت میں مسلسل اضافہ ہونےلگا ،رہنماحزب اسلامی گلبدین حکمت یار نےطالبان رجیم کوناقابل قبول قراردیتےہوئےسیاسی تبدیلی اورشفاف انتخابات کامطالبہ کردیا۔
افغان میڈیا آمو ٹی وی کے مطابق سابق افغان وزیراعظم گلبدین حکمت یار(Gulbuddin Hekmatyar) نےکہاکہ طالبان رجیم میں افغانستان کےحالات ہرگزعوامی امنگوں کےمطابق نہیں،فوری اصلاحات ضروری ہیں۔
افغان میڈیا کے مطابق گلبدین حکمت یارنےطالبان رجیم میں آئین اورشوریٰ جیسےبنیادی عناصرکی عدم موجودگی پرافغان طالبان کوشدیدتنقید کانشانہ بنایا۔
مزیدپڑھیں:پاکستانی آئی ٹی کمپنی سپرنیٹ گلوبل کا افریقہ میں سیٹلائٹ کنیکٹیویٹی منصوبہ کا کامیاب آغاز
افغان سیاسی جماعت حزب وحدت اسلامی افغانستان کاکہناہےکہ بیرون ملک موجود سیاسی قائدین عوامی مینڈیٹ کےحامل نظام تک واپس نہیں آئیں گے،بصورتِ دیگربحران کےذمہ دارطالبان ہوں گے۔
افغان میڈیا کا کہناہےکہ گزشتہ 4 سال میں سابق حکومت کےدرجنوں ارکان اور سکیورٹی اہلکاروں کوقتل اورقیدکیاگیا۔
ماہرین کے مطابق افغان طالبان رجیم کےآمرانہ رویہ اور کڑی پالیسیوں کےباعث افغان عوام نظام کی تبدیلی کامطالبہ کررہےہیں ، ناکام افغان طالبان رجیم نےافغانستان پرمسلط ہوکرافغان معیشت اورمعاشرےکومکمل طور پرتباہ کردیاہے۔












منگل 21 اپریل 2026 