پاکستان، سیٹلائٹ انٹرنیٹ کی منظوری آخری مرحلے میں داخل، وفاقی وزیر آئی ٹی

Calender Icon پیر 27 اپریل 2026

اسلام آباد،پاکستان میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس کے آغاز کی راہ ہموار ہونے لگی ہے، جہاں اس کے لیے ریگولیٹری فریم ورک(regulatery fram work) تیاری کے آخری مراحل میں داخل ہو گیا ہے۔

حکام کے مطابق یہ فریم ورک قومی سلامتی، اسپیکٹرم مینجمنٹ اور سکیورٹی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے تاکہ ملک بھر میں اس سروس کا محفوظ اور مؤثر نفاذ یقینی بنایا جا سکے۔

پاکستان اسپیس ایکٹیویٹیز ریگولیٹری بورڈ (پی ایس اے آر بی) کی جانب سے سیٹلائٹ کمیونیکیشن کے مسودہ قواعد تیار کر لیے گئے ہیں، جو اس وقت حتمی مشاورت کے مرحلے میں ہیں۔ وفاقی وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ نے پارلیمان کو تحریری جواب میں بتایا کہ یہ قواعد جلد حتمی شکل اختیار کر لیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی جانب سے فکسڈ سیٹلائٹ سروسز (ایف ایس ایس) کے لائسنسنگ فریم ورک کو بھی تیار کر لیا گیا ہے، جسے منظوری کے لیے وفاقی کابینہ میں پیش کیا جائے گا۔ اس فریم ورک کا مقصد سرمایہ کاری کے لیے سازگار اور شفاف ماحول فراہم کرنا ہے۔

نئے نظام کے تحت براڈ بینڈ سیٹلائٹ انٹرنیٹ، بیک ہال، بینڈوڈتھ فراہمی اور کارپوریٹ ڈیٹا سروسز جیسی سہولیات فراہم کی جا سکیں گی، جو پاکستان کی ڈیجیٹل حکمت عملی کا اہم حصہ ہیں۔ اسٹارلنک، ون ویب، شنگھائی اسپیس کام اور اسٹائلیوٹ سمیت متعدد بین الاقوامی کمپنیاں پاکستان میں خدمات فراہم کرنے میں دلچسپی ظاہر کر چکی ہیں، جبکہ اسٹارلنک پہلے ہی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان میں رجسٹر ہو چکی ہے۔

حکام کے مطابق اسپیکٹرم الاٹمنٹ اور لائسنسنگ کے عمل کو مؤثر بنانے کے لیے پی ایس اے آر بی، پی ٹی اے اور فریکوئنسی الاکیشن بورڈ کے درمیان قریبی رابطہ قائم کیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر آئی ٹی کا کہنا ہے کہ سیٹلائٹ انٹرنیٹ ملک میں ڈیجیٹل خلیج کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا، خصوصاً دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں تیز رفتار انٹرنیٹ کی فراہمی ممکن ہو سکے گی۔

مزید پڑھیں:پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شدیدمندی،سرمایہ کاروں کے اربوں روپے دوب گئے

حکومت نے دیگر سیٹلائٹ کمپنیوں کو بھی ہدایت کی ہے کہ وہ قانونی تقاضوں کی تکمیل کے لیے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن میں رجسٹریشن کروائیں تاکہ پاکستان میں جدید انٹرنیٹ سہولیات کا دائرہ کار مزید وسیع کیا جا سکے۔