وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی(Mohsin Naqvi) کا کہنا ہے کہ ون کانسٹی ٹیوشن کے معاملے پر تجویز دوں گا کہ ہمیں بلڈنگ کے پیچھے نہیں جانا چاہیے بلکہ ان لوگوں کے پیچھے بھی جانا چاہیے جنہوں نے اس ملک کو نقصان پہنچایا۔
لاہور میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں اتنا بڑا اسکیم نہیں ہوا ہوگا جس میں سیاستدان، بیوروکریٹس، ججز اور بینکرز ہر ایک ملوث ہے۔ تقریباً 21 سال وہ پیسے کھلاتا رہا اور یہ لوگ کھاتے رہے۔
محسن نقوی نے کہا کہ ون کانسٹی ٹیوشن سے متعلق میرا موقف بالکل آج بھی وہی ہے جو پہلے دن سے تھا اور سی ڈی اے کا بھی موقف یہی ہے کہ یہ غیر قانونی طور پر بیچا گیا۔
مزیدپڑھیں:’گھر والے شادی نہیں کرتے، پولیس کروا دے‘ بھارتی خاتون تھانے پہنچ گئی
انہوں نے کہا کہ اب کمیٹی بنا دی گئی ہے تو اس کے سامنے بھی ہم یہی موقف رکھیں گے، ان شاءاللہ جیت قانون کی ہوگی۔ قانون سب کے لیے برابر ہے ایسا نہیں ہو سکتا کہ غریب کے لیے قانون الگ ہو اور امیر کے لیے قانون الگ۔
وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ میں صرف اتنا ہی کہوں گا کہ جو سی ڈی اے کا موقف ہے، میں اس کی بھرپور حمایت کروں گا اور مکمل سپورٹ کروں گا۔












پیر 4 مئی 2026 