پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB) نے نادہندگان کے خلاف ’ریکوری مہم‘ شروع کر دی، سب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مقررہ مدت تک ادائیگی کا کہا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان سپر لیگ کا 11 واں ایڈیشن اختتام کو پہنچ چکا ہے، اس کے دوران ہی کرکٹ بورڈ کی ریکوری مہم کا آغاز ہو چکا تھا۔
ذرائع نے بتایا کہ اس وقت مختلف اسٹیک ہولڈرز پر اربوں روپے کے واجبات ہیں، کئی بار یاد دہانی پر بھی جب رقم نہیں دی گئی تو اب حکام نے سخت رویہ اپنا لیا ہے۔
گزشتہ دنوں ابتدائی پی ایس ایل فرنچائزز سمیت کئی دیگر اداروں کو نوٹس بھیجے گئے، ان میں واضح کیا گیا تھا کہ اگر 29 اپریل تک ادائیگی نہیں ہوئی تو معاہدے منسوخ کر دیے جائیں گے، اس پر کئی فرنچائزز نے اپنی فیس جمع کرا دی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ خود انہیں دسویں ایڈیشن کے سینٹرل انکم پول سے بھی اب تک تقریباً 40، 40 کروڑ روپے ملنا باقی ہیں۔
حکام کی توجہ جب اس جانب مبذول کرائی گئی تو جواب ملا کہ کچھ بھی ہو معاہدے کی رو سے فیس دینا ضروری ہے، ہمیں جب تک دیگر اسٹیک ہولڈرز سے رقم نہیں ملتی آپ کو کیسے دیں گے؟
ماضی میں یہ پریکٹس رہی ہے کہ آدھی فیس دینے کے بعد بورڈ سابقہ سینٹرل انکم پول سے ہی بقیہ رقم منہا کرلیتا تھا تاہم اس بار مختلف انداز اپنایا گیا ہے۔
پی ایس ایل کے دسویں ایڈیشن سے ہر فرنچائز کو 97.5 کروڑ روپے کا شیئر ملنا تھا، البتہ ایک اہم اسٹیک ہولڈر کو پی سی بی کو 4 ارب 70 کروڑ روپے دینے ہیں، ان میں سے بڑی رقم تو صرف سپر لیگ کی ہی ہے، وہ مالی نقصان کو جواز قرار دے کر ادائیگی سے گریزاں ہے۔
مزیدپڑھیں:فرنچ اوپن: انعامی رقم پر تنازع، کھلاڑیوں نے ایونٹ کے بائیکاٹ کی دھمکی دے دی
حکام نے رواں ایڈیشن کے میڈیا رائٹس کی بڈنگ میں 2 چینلز کو اسی وجہ سے شامل نہیں ہونے دیا، البتہ جس نئی کمپنی نے حقوق خریدے حیران کن طور پر اسی نے ان دونوں کو بھی میچز دکھانے کی اجازت دے دی۔
سابقہ تجربے سے سبق سیکھتے ہوئے کرکٹ بورڈ نے اس بار میڈیا رائٹس خریدنے والی کمپنی سے بینک گارنٹی بھی لی ہے، عدم ادائیگی پر اسے کیش کرانے کا آپشن موجود ہو گا۔
دوسری جانب ذرائع نے بتایا کہ دونوں نئی ٹیموں اور سابقہ ملتان سلطانز کے نئے اونر نے پہلے ہی مکمل فیس ادا کر دی تھی، چونکہ ان کا پہلا سال ہے لہذا انہیں سابقہ سینٹرل پول سے کوئی رقم ملنی ہی نہیں تھی۔
بھاری قیمت پر ٹیمیں خریدنے والے اونرز کو سینٹرل پول سے ابتدائی 5 سال تک کم از کم 85 کروڑ روپے دینے کی یقین دہانی پہلے ہی کروائی جا چکی ہے، البتہ اکائونٹس فائنل ہونے پر ہی حتمی رقم کا تعین کیا جا سکے گا۔












بدھ 6 مئی 2026 