200 یونٹ تک بجلی سبسڈی ختم، پاکستان کی آئی ایم ایف کو نیا نظام متعارف کرانیکی یقین دہانی

Calender Icon جمعرات 7 مئی 2026

پاکستان نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کو بجلی سبسڈی کے نظام میں بڑی اصلاحات کی یقین دہانی کرا دی ہے، جس کے تحت آئندہ چند ماہ میں موجودہ سبسڈی ڈھانچے کو مرحلہ وار تبدیل کرنے کی تیاری شروع کر دی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق حکومت نے آئی ایم ایف کو آگاہ کیا ہے کہ 200 یونٹس تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کے لیے دی جانے والی عمومی سبسڈی کو ختم کر کے جنوری 2027 سے ہدفی سبسڈی کا نیا نظام نافذ کیا جائے گا۔ اس نئے ماڈل کے تحت صرف مستحق اور کم آمدنی والے گھرانوں کو ہی رعایت فراہم کی جائے گی۔

حکام کے مطابق نئی سبسڈی کا تعین بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے ڈیٹا کی بنیاد پر کیا جائے گا تاکہ امداد صرف حقیقی مستحقین تک پہنچ سکے اور قومی خزانے پر غیر ضروری بوجھ کم ہو۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ نظام میں بعض صارفین ایک ہی گھر میں ایک سے زائد بجلی میٹر نصب کرا کے ہر میٹر کی کھپت 200 یونٹس سے کم رکھتے ہیں تاکہ زیادہ سبسڈی حاصل کی جا سکے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ نئے نظام کے ذریعے اس طرز عمل کی روک تھام ممکن بنائی جائے گی۔

مزیدپڑھیں:فیلڈ مارشل عاصم منیر 10 مئی کو قومی سلامتی اور دفاع کے حوالے سے اہم اعلان کرینگے

اس مقصد کے لیے حکومت نیشنل سوشیو اکنامک رجسٹری (این ایس ای آر) کے ساتھ بجلی صارفین کے ریکارڈ کو منسلک کرنے پر کام کر رہی ہے۔ اس منصوبے میں عالمی بینک بھی تکنیکی معاونت فراہم کرے گا، جبکہ سبسڈی کی شفاف تقسیم کے لیے ایک بیرونی فرم کی خدمات حاصل کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔

دوسری جانب حکومت زرعی شعبے میں بھی اصلاحات متعارف کرانے کی تیاری کر رہی ہے۔ پنجاب میں نافذ کیے گئے ای آبیانہ نظام کو آئندہ مالی سال سے سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان تک توسیع دینے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ آبپاشی کے پانی کے نرخوں کو آپریشن اور دیکھ بھال کے اخراجات سے ہم آہنگ کرنے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

اعلیٰ سرکاری ذرائع کے مطابق پاکستان ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی کے تحت 20 کروڑ ڈالر کی دوسری قسط کے حصول کے قریب پہنچ چکا ہے۔ اس سلسلے میں آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کا اہم اجلاس 8 مئی 2026 کو واشنگٹن میں متوقع ہے، جس میں پاکستان کے لیے مالی معاونت کی منظوری دی جا سکتی ہے۔