غزہ میں اسرائیلی حملوں، اسپتالوں کی تباہی اور فلسطینی طبی عملے کی شہادت پر مبنی دستاویزی فلم ’غزہ: ڈاکٹرز انڈر اٹیک‘ نے بافٹا ایوارڈ(Award) جیت لیا۔
ایوارڈ وصول کرتے ہوئے فلم سازوں نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام عائد کیا کہ ادارے نے فلم کی فنڈنگ کے باوجود اسے نشر کرنے سے انکار کر کے سنسر شپ کی۔

فلم کے ایگزیکٹو پروڈیوسر بین دی پیئر نے تقریب کے دوران کہا کہ بی بی سی نے ہماری فلم چھوڑ دی، کیا اب وہ ہمیں بافٹا اسکریننگ سے بھی نکال دے گا؟
View this post on Instagram
صحافی رمیتا ناوائی نے خطاب میں کہا کہ یہ وہ حقائق ہیں جن کی تحقیقات کے لیے بی بی سی نے فنڈنگ دی لیکن نشر کرنے سے انکار کر دیا، ہم خاموش نہیں ہوں گے اور نہ ہی سنسر شپ قبول کریں گے۔
مزیدپڑھیں:ہمارے ساتھ بیٹھی خاتون اسلام آباد میں خودکش حملے کے مشن پر تھیں: وزیرِ اعلیٰ بلوچستان
فلم سازوں نے غزہ میں موجود صحافیوں کی بہادری کو بھی خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ روزانہ یہ خوف لے کر جاگتے تھے کہ کہیں زمینی حقائق ریکارڈ کرنے والے صحافی زندہ بھی ہیں یا نہیں۔
دستاویزی فلم میں غزہ کے فلسطینی ڈاکٹروں اور طبی کارکنوں کے بطور عینی شاہد بیانات شامل ہیں، فلم سازوں کے مطابق اسرائیلی حملوں میں 1700 سے زائد فلسطینی ڈاکٹرز اور طبی کارکن جاں بحق جبکہ 400 سے زیادہ گرفتار کیے جا چکے ہیں۔
واضح رہے کہ بی بی سی نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ فلم نشر کرنے سے جانبداری کا تاثر پیدا ہو سکتا ہے، جو ادارے کے صحافتی معیار کے خلاف ہے، بعد ازاں یہ فلم برطانوی چینل نے نشر کی تھی۔














پیر 11 مئی 2026 